حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 178 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 178

صحابہؓ ایسے نہ تھے کہ (النّسآء:۸۴)جب کوئی امن و خوف کی بات ہوتی تو اسے پھیلا نہ دیتے تھے۔تم میں سے اکثر ایسے ہیں جو بات سُنی تو فورًا اس کو پھیلا دیتے ہیں۔آخر ان کا معاملہ حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پیش ہؤا تو آپؐ نے اُس صحابی ؓ کو فرمایا کہ تمہارے متعلق ہمیں یہ بات پہنچی ہے تو انہوں نے یہ عرض کیا کہ بات تو جیسے حضورصلّی اﷲ علیہ وسلّمکو کسی نے پہنچائی وہ صحیح ہے۔تب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا اِنَّ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا۔یہ بھی فرمایا تھاوَ لِعَیْنَیْکَ عَلَیْکَ حَقًّا۔تیرے پر نفس کے بھی حقوق ہیں تیری بیوی کے بھی حقوق ہیں۔اس نے عرض کیا یا رسول اﷲصلّی اﷲ علیہ وسلّم (اس کی مراد اس سے یہ تھی) کہ میں تو خوب مضبوط ہوں آپ مجھے کچھ تو اجازت دیں تو نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ اچھا ایک مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو (چاند کی تیرہ، چودہ، پندرہ) اُس نے پھر کہا یا رسول اﷲؐ (مطلب یہ تھا کہ مَیں بہت طاقتور ہوں آپ ؐ مجھے اَور اجازت دیں) تو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا دو دن افطار کر کے ایک دن روزہ رکھ لیا کرو۔اُس نے پھرعرض کیا یا رسول اﷲ … تو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا۔سب سے بڑھ کر تو صومِ داؤ دی تھا۔تم ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کر لیا کرو۔پھر کہا یا رسول اﷲؐ(مطلب یہ تھا کہ مجھے قرآن کریم کے روزانہ ختم کرنے کی تو اجازت فرماویں) تو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہفتہ میں ایک ختم کر لیا کرو۔تو اُس نے پھر عرض کیا یا رسول اﷲ۔تو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہفتہ میں ایک ختم کر لیا کرو۔تو اُس نے پھر عرض کیا یا رسول اﷲ۔تو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا قرآن کریم کا ختم تین دن میں کر لیا کرو اِس سے جلدی کی بالکل اجازت نہیں ہے۔جب وہ بوڑھے ہو گئے تو پھر ان کو اس سے تکلیف ہوئی اور اب نبیٔ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہوئے تھے۔اب لگے رونے اور پچھتانے کہ مَیں نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی اجازت کو اس وقت کیوں نہ مانا! جب ایسے ایسے صحابہ ؓ کو رضامندی کا پتہ نہیں لگ سکا تو تم کو کیوں کر لگ سکتا ہے؟ ہم بیمار ہو جاتے ہیں یا ہمیں کوئی خوشی ہوتی ہے تو تم میں سے بعض ایسے ہیں (جن کا ہم سے کوئی تعلق نہیں) کہ وہ ہماری رنج و راحت میں بالکل شریک نہیں ہوتے اور ہمیں پوچھتے تک نہیں۔وَ اِذَاخَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ:اور جب یہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دیکھو تم نے فلاں بات جو تم کو سمجھ آ گئی وہ کیوں بتلائی۔اَب وہ تم کو خدا کے رُوبرو ملزم ٹھہرائے گا۔ (البقرۃ:۷۸)کہ یہ نہیں جانتے کہ اﷲ اُن کے چھُپے اور ظاہر اور ان کے سب بھیدوںکو جانتا ہے تو وہ پھر چھپاتے کِس سے ہیں۔(الفضل ۲۶؍نومبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵)