حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 177 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 177

  : تم یہ چاہتے ہو کہ تمہاری بات مان لیں مگر یہ وہ لوگ ہیں کہ جس کتاب کو کلام اﷲ مانتے ہیں اس کی بھی خلاف ورزی کر رہے ہیں بعد اس کے کہ اس کو خوب سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس کی خلاف ورزی کوئی نیک نتیجہ نہیں رکھتی۔: حُجّت میں غالب آئیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍فروری ۱۹۰۹ء) انسان کے ذمّہ تین طرح کے حقوق ہیں۔اوّلؔ اﷲ تعالیٰ کے۔دومؔ نفس کے۔سومؔ: مخلوقات کے۔اِن حقوق کے متکفّل قرآن کریم اور احادیثِ صحیحہ ہیں۔جنابِ الہٰی کے حقوق کو کون بیان کر سکتا ہے عقل میں تو نہیں آ سکتے۔ںجس طرح وہ وراء الوراء ہستی ہے اس کے حقوق بھی ویسے ہی ہیں۔جب انسان ایک دوسرے انسان کی رصامندی کے طریقے کو بھی اچھی طرح نہیںجان سکتا تو خدا تعالیٰ کی رضامندی کے رستوں کو کب کوئی پا سکتا ہے اور جب انسان کے حقوق کو نہیں سمجھ سکتے تو خدا کے حقوق کو کِس طرح سمجھ سکتے ہیں۔مثلاً مَیں یہاں کھڑا ہوں تم میری رضامندی کی راہ کو نہیں جانتے۔تو وہ ذات جولَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ (الشُوْرٰی:۱۲) ہے اس کے حقوق کو کیونکر انسان سمجھ سکتا ہے۔اِسی طرح انسان کے حقوق بھی ہیں۔انسان بہت کچھ غلطیاں کر جاتا ہے۔اِس لئے خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے ایک قانون بنایا ہے۔ایک صحابیؓ دن کو روزے رکھتے اور رات کو عبادت کرتے تھے۔وہ حضرت سلمان فارسیؓ کے دوست تھے۔ایک دفعہ سلمانؓ ان کے گھر تشریف لے گئے تو ان کی بیوی کے کپڑے خراب تھے۔انہوں نے ان کی بیوی سے پُوچھا کہ بھاوجہ صاحبہ آپ کی ایسی حالت کیوں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے کپڑوں کی حالت کیونکر اچھی ہو تمہارے بھائی کو تو بیوی سے کچھ غرض ہی نہیں۔وہ تو دن بھر روزے اور رات کو عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔حضرت سلمانؓ نے کھانا منگوایا۔اس دوست کو کہا کہ آؤ کھاؤ۔انہوں نے جواب دیا کہ مَیں روزے دار ہوں۔تو حضرت سلمانؓ نے ناراضگی ظاہر کی تو مجبورًا اُس صحابیؓ نے آپ کے ساتھ کھانا کھا لیا۔پھر حضرت سلمانؓ نے جب رات ہوئی تو چارپائی منگوا کر ان کو کہا کہ سو جاؤ۔انہوں نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ مَیں رات کو عبادت کیا کرتا ہوں تو پھر حضرت سلمانؓ نے ان کو زبردستی سُلا دیا۔