حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 174
وَ اِذْقَتَلْتُمْ نَفْسًا:ایک یہودی عورت نے ایک مُسلم عورت کو مار دیا۔قریب المرگ حالت میں بتا گئی میرا قاتل کون ہے۔پس حکم ہؤا اس کو مار دو۔بِبَعْضِھَا:بعض کے بدلے میں۔اِس لئے فرمایا کہ (ا)کوئی خواہ سَو کو مارے آخر اسی ایک قاتل کو قتل کیا جائے گا۔(ب)دوم۔جُرم کا اِرتکاب خدا جانے کتنی بار کر چکا ہے اور اَب پکڑا گیا۔: وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌاس قاتل کو مارنے سے آئندہ قتل ہونیوالے بچ گئے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ نیز دیکھیں ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍فروری ۱۹۰۹ٔ) مَیں نے اِس آیت پر غور کیا ہے وَ اِذْقَتَلْتُمْ نَفْسًایہ ایک سیدھی بات ہے اِس کے معنے ’’ تم نے ایک آدمی کو مار ڈالا۔‘‘ آدمی کو تو مارا ہی کرتے ہیں۔یہ ترجمہ اِس کا صحیح نہیں۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم نے ایک جی ( یا جان) کو مارا پھر اپنے آپ سے ہٹانے لگے کہ ہم نے نہیں مارا۔معلوم ہؤا کہ وہ جان ایسی نہ تھی جس کا وہ بہادری کا کام سمجھ کر اقرار کرتا۔کعب بن اشرف مارا گیا۔اس کے قاتل کا پتہ پوچھنے پر نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا مَیں نے مارا ہے۔ابورافع مارا گیا اس کے لئے بھی نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے اس کو مارا ہے کُشت و خون جیسا کہ آجکل سرحدیوں ، وزیریوں اورمحسودیوں وغیرہ میں ہے ایسا ہی عرب میں تھا۔سب کے نزدیک عورت کا مارنا بہت معیوب ہے۔ابوسفیان نے کہا تھا کہ آپ اِس لڑائی میں عورتوں کو بھی مقتول پائیں گے مگر مَیں نے یہ حکم نہیں دیا۔مَیں ایک دفعہ ایک رئیس کے ساتھ جس کے ساتھ انگریز بھی تھے سؤر کے شکار میں گیا۔سامنے سے ایک سؤر آیا۔اس کا گھوڑا اس سے ڈر گیا۔جُھک کر گھوڑے کو ایک طرف دوڑا کر لے گیا۔ایک مسخرہ انگریز بھی ان میں تھا اس نے اس رئیس کو کہا کہ وَل۔آپ کاگھوڑا سؤر سے ڈر گیا تو اس رئیس نے کہا کہ آپ نے دیکھا نہیں۔مَیں جھُکا تھا۔مَیں نے دیکھا کہ وہ سؤر کی مادہ سؤرنی تھی۔ہم سپاہی مادہ کو نہیں مارا کرتے۔تو اس انگریز نے دوسرے انگریز کو کہا شُکر ہے ہم نے اس کو نہیں مارا ورنہ ہماری تو بدنامی ہوتی۔اِس آیت میں جس نفس کا ذکر ہے وہ عورت ہے۔مرد کو اگر مارتے تو کچھ حَرج نہ تھا۔تحقیقات کرنے پر انہوں نے ایک دوسرے پرتھوپا۔آخر نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ کے سارے بدمعاشوں کو جمع کیا اور اس عورت کے آگے سب کو پیش کیا۔وہ بول تو نہ سکتی تھی مگر قوّتِ ممیزّہ اس میں تھی۔جب قاتل کو اس کے سامنے لایا گیا تو اُس نے سر سے اشارہ کیا کہ یہی ہے۔اس کو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم