حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 175
نے کئی پیچوں سے اس عورت پر پیش کیا مگر وہ اس کو پہچان لیتی۔اس کا ذکر بخاری شریف میں ہے۔اس بدمعاش نے اس عورت کاسر دو پتھّروں کے درمیان کُچل دیا تھا ( کچھ زیور کے لالچ سے)۔وَاﷲُ مُخْرجٌٌ مَّاکُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ :اﷲ اِس بات کو نکالنے والا تھا آخر وہ بات نکل آئی۔فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا:تب ہم نے اس قاتل کو مارنے کا حکم دیا اور یہ اس کے بعض کا بدلہ تھا۔اس نے پہلے بھی کئی بدمعاشیاں کیں اور آگے بھی وہ کرتا۔اِس لئے یہ سزا اس کے بعض کی ہے۔اَور جگہ فرمایاوَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ (البقرۃ:۱۸۰)بدلہ لینے میں تمہارے لئے حیات ہے۔یُحْیٖ کا لفظ رکھاہے یہ ان کی بے حیائی ہے کہ انہوں نے عورت کو مارا۔عورت کو مارنا کوئی بہادری نہیں۔(الفضل ۱۹؍نومبر۱۹۱۳ء صفحہ ۱۵ نیز ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍فروری ۱۹۰۹ء) یَخْرُجُ مِنْہُ الْمَآئُ:جب بعض پتھّر ایسے ہیں کہ ان سے پانی نِکلتا ہے تو مومن کے اندر سے تو اس سے بڑھ کر کچھ نکلنا چاہیئے یعنی اتنی ندیاں پھُوٹ کر نکلیں کہ عالَم سیراب ہو۔پتھّروں سے پانی نِکل کر فارغ البالی، سرسبزی کا ذریعہ بنتا ہے تو مومن کے اندر سے بھی ایسے کلمات نکلنے چاہئیں جن سے رُوحانی سر زمین میں بہار آتی ہو۔لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اﷲُ :پتھّر کے اُوپر سے گِرنے کا نظّارہ انسان میں خشیت پَیدا کرتا