حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 170
کی۔انہی لوگوں کا بُرا ٹھکانا ہے اور سیدھے راستے سے بہت دُور ہیں۔جب وہ تمہارے پاس آتے تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ وہ کُفر سے بھرے ہوئے آئے اور اسی کے ساتھ نِکل گئے اور اﷲ جانتا ہے جسے وہ چھُپاتے ہیں اور تُو ان میں سے بہت کو دیکھے گا کہ گناہ اور زیادتی میں اور حرام خوری میں پیش دستی کرتے ہیں۔بہت بُرا ہے وہ امر جو وہ کر رہے ہیں۔اِس سے صاف ثابت ہؤا کہ ان کی شکلیں مَسخ نہیں ہوئیں۔وہ لوگ گائے کی پرستش کرتے تھے خدا نے ان سے دَرشنی گائے ذبح کرائی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍فروری ۱۹۰۹ء) اور تم جان چکے ہو ان لوگوں کو جنہوں نے تم میں سے ہفتے کے دِن میں زیادتی کی۔پس ہم نے کہا اُن کو ذلیل بندر ہو جاؤ۔سَبت لُغت میں آرام کو کہتے ہیں۔دیکھو قاموس۔اَلسَّبْتُ اَلرَّاحَۃُ۔اور ہفتے کے دِن کو بھی کہتے ہیں۔یہودی آرام کے دِنوں میں یا یُوں کہو سَبت کے دن خداوند خدا کی نافرمانی کرتے اور ان کی سرکشی اور بغاوت پر جب باری تعالیٰ کا غضب بھڑکتا تو ذلیل اور خوار ہو جاتے اور ان کی حالت اس ذِلّت اور اوبار کی وجہ سے گویا بندروں، سؤروں اور کُتّوں کی سی ہو جاتی۔اسی مجاز کو قرآن کریم بیان کرتا اور اہلِ کتاب کو جو زمانہ ٔ نبوی میں تھے ان کے اسلاف کا عبرت انگیز حال یاد دلا کر نصیحت دیتا ہے… ایسے مجازوں کو جو کتبِ الہامیہ میں خصوصًا اور ہر زبان میں عموماً مستعمل ہوتے ہیں حقیقت اور نفس الامری سمجھ لینا غلطی ہے اور یہ خوش فہمی انہیں حضراتِ نصارٰی سے ہی مخصوص ہے۔(فصل الخطاب جِلد اوّل ایڈیشن دوم صفحہ ۱۴۹،۱۵۰)چونکہ یہودکو سبت کی حفاظت کی تاکید شدید تھی جیسا خروج باب ۲۰ آیت ۹ اور باب ۳۵ سے پایا جاتا ہے مگر وہ شریر قوم بخلاف حکمِ ربّانی بغاوت اور عصیان کرتی تھی اِس لئے غضبِ خداوندی ان پر نازل ہوتا اور وہ ذلیل و مردُود ہو جاتے اور اس کو سؤراور بندر کے استعارے میں مجازا ًذکر کیا ہے۔(فصل الخطاب جلد اوّل ایڈیشن دوم صفحہ ۱۵۱)