حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 169
کیونکر دھوکہ دے سکتے ہیں۔یاد رکھو اِس آیت میں یہ نصیحت ہے کہ مُرَفَّہ الحال ہو کے کوئی شخص اﷲتعالیٰ کو ناراض کرے تو وہ بھی بُرا اور خدا نے جو عبادت کے وقت مقرر کر رکھے ہیں ان میں حیلہ گریوں سے کام لے تو وہ بھی بُرا۔پس اِن دونوں باتوں سے بچو۔دیکھو ایک قوم نے ایّامِ راحت اور یومِ عبادت کی قدر نہ کی۔حکمِ الہٰی کی بجا آوری میں طرح طرح کے حِیلے کئے تو اﷲ نے ان کو یہ عذاب دیا کہ بندروں کی طرح ذلیل بنا دیا۔وہ احکام کو ٹال کر اپنی عزّت چاہتے تھے مگر خدا نے انہیں ذلیل کر دیا اور یہ واقعہ ایسا خطرناک ہؤا کہ فَجَعَلْنٰھَا نَکَالَا کہ اسے دہشت بنا دیا اُن لوگوں کے لئے جو اس وقت موجود تھے اور ان کے لئے بھی جو پیچھے آئیں گے۔پارہ ۹ رکوع گیارہ اور پھر پارہ ۶ رکوع ۱۳ میں فرمایا ہے کہ یہ لوگ کِس طرح بندر بنائے گئے۔(۱)۔ ۔ (الاعراف:۱۶۷تا۱۶۹) پس جب ممنوعہ امور کو گردن کشی سے کرنے لگے تو ہم نے کہا ہو جاؤ تم بندر ذلیل۔اور جب تیرے ربّ نے آگاہ کر دیاکہ ان (یہود) پر ایسے لوگوں کو مسلّط رکھے گا جو قیامت تک انہیں بڑے بڑے دُکھ پہنچاتے رہیں۔تحقیق تیرا ربّ جلد اعمال کا بڑا نتیجہ دینے والا ہے اور بات یہ ہے کہ وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔اور ہم نے انہیں گروہ در گروہ بنا کر ملک میں مُنتشر کر دیا۔ان میں سے بعض نیکوکار ہو گئے اور انہی میں سے بعض اَور طرح کے رہے اور انہیں ہم نے دُکھوں سُکھوں سے آزمایا تاکہ رجوع کریں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍فروری ۱۹۰۹ء) (۲) ۔ ۔ ۔(المائدۃ: ۶۱تا۶۳) میں تمہیں آگاہ کروں کہ اﷲکے حضور بَدتر بدلہ پانے والا کون ہے وہی گروہ جسے اﷲ نے اپنی رحمت سے دُور کیا اس پر غضب نازل کیا جن کو بندر اور سؤر بنایا کیونکہ انہوں نے طاغوت کی فرمانبرداری