حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 168
نظّارے عام ہیں کہ پہاڑ سر پر ہوتا ہے اور اگر زلزلہ پہاڑ میں آ رہا ہو اور پہاڑ آتش فشاں ہو تو اَور بھی وہ نظّارہ بھیانک ہو جاتا ہے… معنی آیت کے اِس صورت میں یُوں ہوئے (وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ) جب بلند کیا تم پر اس چیز کو جو طُور میں نازل ہوئی۔آگے کا فقرہ اس معنی کی طرف راہنمائی بھی کرتا ہے ۔لو جو دیا ہم نے تم کو بڑی قوّت سے اور عمل درآمد میں لاؤ جو اس میں ہے۔(نورالدین (ایڈیشن سوم) صفحہ ۱۵۸،۱۵۹) لَقَدْ عَلِمْتُمْ:خاسروں میں سے ہونے کی ایک مثال دیتا ہے کہ جو لوگ اﷲ کے حکم کو نہیں مانتے وہ کِس طرح دُکھوں میں مُبتلا ہوتے ہیں۔عَلِمْتُمْیعنی تمہیں یہ واقعہ خوب معلوم ہے۔اِعْتَدَھوْا مِنْکُم:خدا کے حکموں سے نکل کر کام کیا اور الہٰی حد بندیوں کو توڑ دیا۔فِی السَّبْتِ:سبت کے معنے ہیں آرام، راحت، آسُودگی۔لُغت میں ہے اَلسَّبْتُ: الرَّاحَۃُ۔اکثر لوگ جب خدا انہیں دولت و مال ، جاہ و جلال ، جتّھا، صحت عافیّت دیتا ہے تو اس آسُودگی میں خدا کو راضی کرنے کی بجائے ناراض کر لیتے ہیں اور قِسم قِسم کی بدیاں اور حق تلفیاں کرتے ہیں اور اس آرام میں حدودِ الہٰیّہ سے نکل جاتے ہیں سَبت کے ایک اَور معنے بھی ہیں۔وہ ایک دن کا نام ہے جیسے ہمارے ہاں جمعہ ہے۔یہودیوں میں بھی ہفتہ ایک دِن ایسا مقرر کیا گیا تھا جس میں ارشادِ الہٰی تھا کہ شکار نہ کرو۔وہ یُوں کرتے تھے کہ گڑھوں میں مچھلیوں کو روک لیتے تھے اور دوسرے دن اُٹھا لاتے اور کہتے آج تو سبت نہیں ہے۔شریعت کے احکام میں کئی لوگ ایسے حیلے بنا لیتے ہیں جس سے ظاہر ی طور پرکوئی اعتراض نہیں ہو سکتا مگر خدا تو ان کے دِلوں کی نیّتوں کو خوب جانتا ہے اس کو یہ لوگ