حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 166
آئی کہ لہسن پر خوب ہاتھ مارا۔(الفضل ۲۲؍اکتوبر ۱۹۱۳ء) یہاں تین باتوں کا ذکر آیا ہے ایک تو یہ کہ اسلام کے بعد دوسروں کے ساتھ تعلّقات کیسے ہوں۔دومؔ ایمان کے بعد ہمارا عمل درآمد کیا ہو۔سومؔیہ کہ اگر کہا نہ مانو گے تو حال کیا ہو گا۔فرماتا ہے جو لوگ کسی قسم کے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں خواہ دہریہ ہی ہوں غرض پابند ہوں کسی چیز کے اصل کے۔پھر وہ خواہ یہودی ہوں یا عیسائی ہوں یا صابی۔جو کوئی اﷲ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لاتا ہے۔اِن دو باتوں کا ذکر اِس لئے کیا کہ ایمان کی جَڑ اﷲ پر ایمان ہے اور ایمان منتہی آخرت پر ایمان اور جو آخرت پر ایمان لاتا ہے اس کا نشان بھی بتا دیا کہ (الانعام:۹۳) وہ ایک تو تمام قُرآن مجید پر ایمان لاتا ہے دومؔ اپنی صلوات کی محافظت کرتا ہے۔آج ہی ایک نوجوان سے مَیں نے پوچھا نماز پڑھتے ہو؟ اُس نے کہا صبح کی نماز تو معاف کرو۔… باقی پڑھتا ہوں۔یہ مومن کا طریق نہیں۔ایک مقام پر فرمایا (البقرۃ:۸۶) پس تمام کتاب پر ایمان و عمل موجبِ نجات ہے۔اِس آیت میں اﷲ نے بتا دیا ہے کہ ایک ہندو، ایک عیسائی، ایک چُوہڑا، ایک چمار جب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِپڑھ لیتا ہے اور یومِ آخرت کا قائل ہو جاتا ہے تو وہ مسلمان بنتا ہے اور پھر تم سب ایک ہو جاتے ہو۔یہ اخوّت اسلام کے سوا کِسی مذہب میں نہیں۔مَیں نے دیکھا ہے کہ شرفاء، حکماء، غرباء، ایک صَف میں مِل کر کھڑے ہو تے ہیں۔اِس فرمانبرداری کا نتیجہ بھی بتا دیا کہ وہزندگی بسر کرتا ہے۔(الفضل ۵؍نومبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵)