حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 165 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 165

قاموسؔ اور صحاحؔ میں ہے: شَقَوْا عَصَا الْمُسْلِمِیْنَ اَیْ اِجْتَمَاعَھُمْ وَاِیٔتلَاَفَھُمْمسلمان لوگوں کے اتفاق اور باہمی محبّت اور اُلفت کو توڑ دیا انہوں نے اور لاٹھی کو اِس لئے عصا کہتے ہیں کہ اس پر اُنگَلیاںاور ہاتھ جمع ہوتے ہیں۔۳۔حجر کے معنے وادی ،ویلی(VALLYیعنی وادی۔ناقل)۔پتھّر۔حدیث جسّاسہ و دجّال میں ہییَتْبَعُہ‘ اَھْلُ الْحَجَرِ اَیْ اَھْلُ الْبَادِیَۃِ۔پس آیت کا ترجمہ ہؤا۔پس کہا ہم نے لے جا اپنی فرمانبردار جماعت کو یا جا ساتھ اپنی فرمانبردار جماعت کے فلاں وادی میں۔پس چل رہے تھے وہاں بارہ چشمے۔(نورالدین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۵۷،۱۵۸) اِس رکوع شریف میں ہم لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ انسان دُنیا میں کِس طرح ذلیل ہوتے ہیں۔کِس طرح مسکین بنتے ہیں اور کِس طرح خدا تعالیٰ کے عقاب کے نیچے آتے ہیں۔کِس طرح ابتداء اور انتہا ہوتی ہے۔بہت سے لوگ دُنیا میں ہیں جب وہ بدی کرنا چاہتے ہیں اگر وہ نیکوں کے گھر پَیدا ہوئے ہیں یا کِسی نیکی کی کتاب پڑھتے اور مطالعہ کرتے ہیں تو پہلے پہل ان کو حیا مانع ہوتا ہے اور وہ بدی میں مضائقہ کرتے ہیں۔پہلے چُپکے سے ایک چھوٹی بدی کر لی۔پھر اس بدی میں تکرار کرتے ہیں۔پھر بدی میں ترقّی کرتے ہیں۔رفتہ رفتہ بدیوں میں کمال پیدا کر لیتے ہیں۔کُل جہان میں دیکھو بدی اسی طرح آتی ہے کبھی یکدم نہیں آتی۔حضرت موسٰیؑ اپنی قوم کو کہتے ہیں کہ جو ہم کہتے ہیں وہ مان لو۔انہوں نے جواب دیا یہ تو ہم سے نہیں ہو سکتا۔نافرمانی کا نتیجہ کیا ہؤا ذلیل اور مسکین ہو گئے… ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ:پہلے انسان اَدنیٰ نافرمانی کرتا ہے پھر ترقّی کرتا کرتا حد سے بڑھ جاتا ہے…حضرت موسٰیؑ کی قوم باوجود کمزور ہونے کے پانی تک کے لئے اجازت مانگتی ہے۔حضرت موسٰیؑ نے خا سے دعا کی۔حکم ہؤا پہاڑ پر جاؤ وہاں پانی بہتا ہے پیو۔ایک کھانے پر بَس نہیں کی۔کہنے لگے۔دعا کریں ہم کھیتی باڑی کریں۔ترکاریاں، ککڑیاں، لہسن ، مسور اور پیاز کھائیں۔موسٰی علیہ السّلام نے فرمایا یہ بڑی غلطی ہے۔یہ اَدنیٰ چیزیں ہیں۔یہ تو تمہاری محنت سے مِل سکتی ہیں۔کم عقلو! چھوٹے کاموں میں لگ جاؤ گے تو حکومت کِس طرح کرو گے۔ان میں سے جو کمزور تھے ان کو حکم دیا کِسی گاؤں میں جا کر آباد ہو۔فُوْمِھَا کاترجمہ بعض نے گندم کیا ہے یہ غلط ہے مَیں کبھی نہ کروں گا۔مَیں نے ایک کتاب دیکھی اگرچہ وہ مجھے ناپسند آئی مگر مَیں نے اس کو خرید لیا۔رات کو مجھے رؤیا ہؤا کہ ایک بازار ہے اس میں بہت خوبصورت پیاز اور لہسن خرید لیا۔جب جاگ آئی تو زبان پرفُوْمِھَا تھاتو سمجھ