حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 164
اِضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ: اِس کے دو معنی ہیں عَصا پتھّر پر مارو۔پانی کا چشمہ کُھل گیا۔اﷲ صاحبِ کشف کوآگاہ فرما سکتا ہے کہ اِس پتھّر کے نیچے پانی کا سوتا ہے۔۲۔پہاڑ پر جماعت کو لے جاؤ۔فَاقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ۔مُشرکوں مجرموں کو قتل کرو۔بَآع ُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اﷲِ: بتا دیا کہ مغضوب علیہم کا ذکر تھا۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۳۴۷) :اپنی جماعت کو لے کر پہاڑوں پر چلا جا۔وہاں کیا دیکھتا ہے کہ بارہ چشمے جاری ہیں۔اِس آیت میں تین لفظ ہیں ان کے معنی سُنو:۔۱۔ضَرْبِ۔یْقَاعُ شیٍٔ۔مِنْہُ ضَرْبُ الرِّقَابِ ثُمَّ ضَرْبُ الْخَیْمَۃِ وَضَرْبُ الذِّلَّۃِ۔ضرب کے معنے ہیں ایک چیز کا دوسری پر مارنا۔گردن کا مارنا۔خیمہ کا لگانا اور ذِلّت کی مار مارنا اِسی سے نکلا ہے۔۲۔وَ الضَّرْبُ فِی الْاَرْضِ۔اَلذِّھَابُ فِیْہِ وَ مِنْہُ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ وَاضْرِبُوْا مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَھَا۔وَمِنْہُ ضَرَبَ یَعْسُوْبُ الدِّیْنِِ۔اَیْ اَسْرَعَ الذِّھَابَ فِی الْاَرْضِ فِرَارًا مِنَ الْفِتَنِ۔(لسانؔ،تاجؔ،مجمعؔ البحرین) اور ضَرْبکے معنی ہیں زمین میں جانا اور اسی سے ہے جب تم زمین میں جاؤ اور زمین کی مشرق و مغرب میں جاؤ اور اسی محاورہ سے ہے یعسوب دین چلا یعنی فِتنوں سے بھاگ کر جلدی کہیں کو نِکل گیا۔یعسوب الدین مولیٰ مرتضیٰ علیہ السّلام کا لقب ہے۔۳۔وَالضَّرْبُ الْاِقَامَۃُ حَتّٰی ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ اَیْ رَوِیَتْ اِبِلُھُمْ حَتّٰی بَرِکَتْ وَاَقَامَتْاور ضرب کے معنی ہیں اقامت کرنا۔محاورہ ہے لوگوں نے اپنے اپنے ڈیروں میں آرام کیا۔کیا معنی؟ اُونٹ پانی پی کر بیٹھ گئے اور ٹھہرے۔اپنے آپ کو زمین میں ٹھہرایا۔یُقَالُ صَرَبَ بِنَفْسِہِ الْاَرْضَ۔اَیْ اَقَامَ وَالضَّرْبُ یَقَعُ عَلٰی کُلِّ فِعْلٍ وَعَلٰی جَمِیْعِ الْاَعْمَالِ اِلَّا قَلِیْلًا (تاجؔ،لسانؔ) ضَرَبَ کالفظ ہر فعل پر اور تمام اعمال پر بجزرندک کے اطلاق پاتا ہے (پس) ضَرَبَ کے معنے ہوئے کسی چیز کا کِسی پر ڈالنا۔کہیں جانا۔کہیں اقامت کرنا یا کوئی کام کرنا۔۲۔اَلْعَصَا:جَمَاعَۃُ الْاِسْلَامِ۔