حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 163
چاہا۔بِالَّذِی: بدلے اِس کے۔خَیْرٌ: یہ خیر کیا تھی؟ سُنو! مجھے اِن معنوں پر یقین ہے کہ وہ خیر فرعون کی غلامی اور ماتحتی سے چھُڑا کر جہاں ان کی صِحت و قوٰی جسمانی میں فتور آ گیا۔آزادی اور جنگل اور پہاڑوں کی رہائش اور بے محنت رزق کی بخشش تھی۔خدا کا مقصود یہ تھا کہ ان میں حُریّت کی رُوح بھر جائے اور پھر یہ فاتح بنیں مگر انہوں نے اس انعامِ الہٰی کی قدر نہ کی اور یہ کہا کہ زمیندارہ کریں گے۔بعض حدیثوں سے ثابت ہے کہ آپ صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے ایک گھر میں زمیندارہ کے آلات دیکھے تو فرمایا ذِلّت کے سامان ہیں۔اِس ارشادِ نبویؐ سے یورپ کی قوموں نے نفع اُٹھایا۔دیکھو کہ جنگلوں (ہندوستان کے۔ناقل) کو آباد کر دیا ہے مگر وہ زمینیں ہمیں دیتے ہیں۔انگریزوں کو عمومًا نہیں دلاتے۔یہ اس لئے کہ انہوں نے دیکھ لیا مسلمانوں کی چار قومیں سیّد،مغل، پٹھان، ترک فاتح ہو کر آئیں لیکن آکر زمیندارہ شروع کر دیا تو آخرکار کمزور ہو گئیں۔کیونکہ وہی زمین جو کسی مورثِ اعلیٰ کے پاس ہزار بیگھ تھی اولاد میں تقسیم ہوتے ہوتے ہر ایک کے پاس چار چار بیگھ رہ گئی جس سے قوت لایموت بھی حاصل نہیں ہو سکتی۔خَیْرٌ: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اچھا جو کچھ تم نے چاہا وہ ہم نے دیا۔جاؤ کوئی گاؤں آباد کر لو مگر ان سے یہ معاہدہ کر لیا کہ شام کے فتح ہونے تک دوسری قوم کے ساتھ رہیں گے۔ضُرِبَتْ: لگا دی گئی۔ذِلَّۃٌ: دن بدن کم ہونے لگے۔ذِلّت کے معنے کمی کے ہیں۔مَسْکَنَۃُ: بے دست و پا ہو گئے۔زمیندارہ چھوڑ کر کہیں نہ جا سکتے تھے۔پھر یہ غضب زمیندارہ سے نازل نہیں ہؤا بلکہ اِس لئے کہ وہ آیات اﷲ کا کفر کرتے۔انبیاء کے قتل کی تدبیریں کرتے رہتے۔یہ جُرأت کیوں ہوئی؟ پہلے چھوٹی چھوٹی نافرمانیاں کرتے تھے جن سے جُرأت بڑھتے بڑھتے یہاں تک نوبت پہنچی۔اِس بات کا تماشا مَیں نے آگ سے دیکھا ہے کہ پہلے ایک دِیا سلائی ہوتی ہے جس کی تِیلی کے ایک کنارہ پر آگ مخفی ہوتی ہے کہ ذرا گھِسنے سے وہ بھڑک اُٹھتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے وہ مکانوں اور شہتیروں کو جلا سکتی ہے۔اِسی طرح گناہ پہلے تھوڑا سا ہوتا ہے پھر بڑھتے بڑھتے فسق و فجور تک نوبت پہنچتی ہے پھر اس سے کفر تک۔یہاں تک کہ دوزخ کی آگ اس کا انجام ہے۔تم اپنے تئیں پہلے ہی سے بچاؤ۔ہلاکت میںنہ پڑو۔بنی اسرائیل کی مثال سے عبرت پکڑو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء)