حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 162
اﷲ کے حکم کے ماتحت کرتے ہیں۔دیکھو بعض صحابہ کرامؓ کو جب کفّار سے تکالیف پہنچیں تو وہ اَور ملکوں کو ہجرت کر کے چلے گئے مگر نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم خود نہیں گئے بلکہ ایک دن حضرت ابوبکرؓ کے گھر گئے اور فرمایا کہ ہم اور آپ اکٹھے چلیں گے۔مَیں امّید کرتا ہوں کہ خدا مجھے بھی ہجرت کا حکم دے۔اَوروں نے اگر اپنے ارادے اور تکالیف سے سفر کیا مگر نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم حکمِ الہٰی کے منتظر رہے۔اسی طرح آپ کے زمانہ میں قحط ہؤا آپ اَور بھی تدابیر کر سکتے تھے مگر انبیاء کا طریق دعا ہے اسی پر عمل کیا۔چنانچہ موسٰی علیہ السّلام کی قوم کو بھی جب ایسی مصیبت پیش آئی تو انہوں نے پانی مانگا قوم کے لئے۔کِس سے؟ چونکہ یہ بات بدیہی ہے کہ ایک نبی، اﷲ ہی سے مانگتا ہے اِس لئے اﷲ کا ذکر نہیں کیا۔اس پر ہم نے الہام کیا۔اِضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ: اس کے کئی معنے ہیں۔سبھی معنے صحیح ہوں گے۔ایک تو یہ کہ اس پہاڑ پر تم اپنا عصا مارو۔وہاں بارہ چشمے پھُوٹ نکلے اور یہ امر ممکن ہے کیونکہ زمین کے اندر پانی چلتا ہے اور جہاں اﷲ کی مرضی ہو پھُوٹ نکلتا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے موسٰیؑ کو کشفِ صحیح عطا کیا۔آپ کو جب اعلامِ الہٰی سے معلوم ہؤا کہ یہاں کوئی پانی قریب ہی جاتا ہے تو برچھا مارا اور اس سے پانی پھُوٹ نکلا۔میرے خیال میں فلسفی کا اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔مگر ایک اَور معنے بھی مجھے پسند ہیں وہ یہ کہ لے جا اپنی جماعت کو پہاڑ پر۔عَصا کے معنے عربی زبان میں جماعتِ اسلام یعنی فرماں بردار جماعت کے ہیں۔لاٹھی کو بھی اِس لئے عَصَاکہتے ہیں کہ اس پر اُنگلیوں کی جماعت اکٹھی ہوتی ہے۔لَاتَعْثَوْا : جب گھر سے بِلا محنت کھانا ملے اور پیٹ بھر جائے تو بعض لوگ فرمانبرداری کی قدر نہیں کرتے اور ان کے دماغ میں باغیانہ خیالات اُٹھتے ہیں۔پس وہ امن میں خلل ڈالتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اﷲ نے انہیں بے محنت رزق دیا تو بجائے شُکر فساد نہ کرو۔عثی سخت فساد کو کہتے ہیں۔لَاتَعْثَوْا بہت شرارت نہ کرو۔لَنْ نَصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ:اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارے پانی ہی کا انتظام نہیں کیا بلکہ تمہیں اپنی جناب سے طیّب کھانا بھی دیا۔طَعَامٍ وَّاحِدٍ ایک ہی طرز پر یعنی جنگل سے۔یا یہ کہ منّ جو انہیں ملتی تھی وہ ہمیشہ ہی ملتی۔سلوٰی کی نسبت تورات میں لکھا ہے کہ چند روز ملی۔بَقْلِھَا: ترکاریاں زمین کی۔قِثَّآئِھَا: ککڑیاں زمین کی۔فُوْم لہسن کو کہتے ہیں اور گیہوں کو بھی۔میری سمجھ میں انہوں نے اِن چیزوں کا ذکر کر کے زمیندارہ