حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 14 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 14

عیب نہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۷۹) بجائے لفظ وقتؔاور حینؔ کے قرآن نے یومؔ کا لفظمیں کیوں اختیارکیا؟ سو گزارش ہے کہ عرب لوگ کبھی رات کی طرف ان امور کی نسبت کرتے ہیں جن میں نقص اور عیب ہوتا ہے۔دیکھو شِعر حماسہ کا۔لَاذَتْ ھُنَالِکَ بِالْاَسْعَافِ عَالِمَۃً اَنْ قَدْ اَطَاعَتْ بِلَیْلٍ اَمْرعَادِیْھَا اگرچہ بعض اَوقات کسی خاص مصلحت کے واسطے لیلؔ کی طرف بھی بعض امور کو منسُوب کرتے ہیں مگر وہاں لیلؔ کو خاص صفت سے موصوف کر لیتے ہیں یا اُسے مُعرَّف بِاللّام بنا لیتے ہیں جیسے (دخان:۴) (القدر:۲)  (بنی اسرائیل :۸۰)۔اِسی واسطے باری تعالیٰ فرماتا ہے ہم جو انصاف کرتے ہیں وہ بے نقص ہوتا ہے اس میں حَرف گیری کا موقع نہیں ہوتا۔ہمارا انصاف اور ہماری سزا روزِ روشن کا معاملہ ہوتا ہے۔(تصدیق براہینِ احمدیہ صفحہ ۱۸۱،۱۸۲) یومؔبمعنے وقت،دین،جزا و سزا اہل عرب بُرے کاموں کو یا جن کاموں کے نتائج بَد ہوں ان کو رات سے منسُوب کیا کرتے ہیں اور اچھے کاموں پر یومؔ کا لفظ استعمال کرتے ہیںچونکہ اﷲ تعالیٰ کی جزا و سزا میں نتائج بَد نہیں ہیں لٰہذا یومؔ کا لفظ یہاں استعمال کیا گیا۔(البدر ۹؍جولائی ۱۹۰۳ء) ۔مسئلہ جزا و سزا رحم پر مبنی ہے اور اس تکمیلِ نفس مقصود ہے۔(تشخیذالاذہان ماہِ ستمبر ۱۹۱۳ء) اﷲ تعالیٰ محامِد کاملہ سے موصوف ہے او صفاتِ کاملہ کا مقتضا ہے کہ مؤثر ہوں۔مثلاً۔۔۔۔جب یہ صفات ہیں اور اﷲ تعالیٰ سوتا یا اُونگھتا نہیں تو اگر خلق پیدا نہ کرے تواس کے لئے حَمد ،ربوبیّت،رحمانیّت،رحیمیت،مالکیت کیونکر ثابت ہو۔کیا آنکھ ہو تو دیکھے نہیں اور کان ہو اور سُنے نہیں۔(دیباچہ نورالدین صفحہ ۲۷) پانچواں رُکن ایمان کا جزا و سزا پر ایمان ہے۔یہ ایک فطرتی اصل ہے اور انسان کی بناوٹ