حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 13 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 13

کو سکھائی گئی ہے۔یہ نہایت ہی لطیف نکتۂ معرفت ہے اور دل کو موہ لینے والی بات۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف اِسی آیت سے شروع ہؤا اور رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے تمام خطبات کا ابتدائبھی اِسی سے ہؤا ہے۔(الحکم ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۲,۳ نیز دیکھیں رسالہ تعلیم الاسلام جلد اوّل نمبر۱ ۱۹۰۶ء) ۔پَیدا کرنے والا۔ترقّی دینے والا۔بتدریج کمال تک پہنچانے والا۔(رسالہ تعلیم الاسلام جلد اوّل نمبر۱) ۔جمع ہے عَالَم کی جو اسمِ آلہ ہے۔مَایُعْلَمُ بِہٖ جس کے ذریعے سے عِلم آتا ہے۔(البدر ۹؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲,۳نیز رسالہ تعلیم الاسلام جلد اوّل نمبر۱ ۱۹۰۶ء) ۔یعنی وہ جو اپنی مخلوق کے ساتھ مالکانہ سلوک کرتا ہے۔(البدر ۹؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷) ۔وقت ۔جزا و سزا۔اِسلام جزا و سزا کے وقت کا مالک خدا ہے اسی کے حکم سے کسی کو جزا یا سزا مِل سکتی ہے۔اَب بھی اور آئندہ بھی ہے۔اِسلام کے وقت کا مالک خدا ہے وہ اس کی آپ حفاظت اور نصرت کرے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍فروری ۱۹۰۹ء)  ۔کا لفظ عربی زبان میں وسیع معنے رکھتا ہے منجملہ ان معنی کے  کے معنی وقت ہے۔سُنو!محاورۂ عرب یَوْمَ وُ لِدَ لِلْمَلِکِ وَلَدٌ یَکُوْنُ سُرُوْرٌ عَظِیْمٌ۔یَوْمَ مَاتَ فُلَانٌ بَکَتْ عَلَیْہِ الْفِرَقُ الْمُخْتَلِفَۃُحالانکہ لڑکے کا پیدا ہونا اور آدمی کا مرنا کبھی دِن کو ہوتا ہے اور کبھی رات کو۔پس کے معنے ہوئے مالک ہے وقتِ جزا کا۔ہر روز جس وقت کسی کو اپنے اعمالِ نیک کے بدلے انعام اور بَد اعمال کے بدلے سزا ملتی ہے اس وقت کا مالک باری تعالیٰ ہے بلکہ  اتنے وقت کو کہتے ہیں کہ جس میں کوئی واقعہ گزرا ہو۔دیکھو یومِ بغاث۔(ابراھیم:۶)۔ہمارے ملک میں دنؔ ٹھیک ترجمہ یوم ؔ کا ہے۔لوگ کہتے ہیں آج فلاں شخص کے دن اچھے آئے ہیں اور فلاں شخص کے بُرے آئے ہیں۔پس یوم ؔ کا ترجمہ دن بھی کریں تو کوئی