حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 157 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 157

والے موجود ہیں اس میں ( مَرْکَنْ) نام ایک بُوٹی بہت پیدا ہوئی تھی اسی پر لوگوں کا گزارہ تھا۔اِسی واسطے اس سال کو مَرْکن کا سال کہتے ہیں۔اِسی طرح خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو جنگل کے درمیان مصیبت کے ایّام میں جنگلی اشیاء سے سہارا بخشا ہے اور بھُوک کے عذاب سے ہلاک نہ ہونے دیا… بنی اسرائیل چالیس برس اس ملک میں رہے جو ملکِ فلسطین اور بحیرہ قُلزم کے درمیان ہے۔انسانی ضرورتیں بغیر پانی کے پُوری نہیں ہو سکتیں۔اﷲ تعالیٰ نے ان دنوں ضروری وقتوں پر مینہ برسائے یہ ان پر خاص فضل تھا اور کرم کی نگاہ تھی۔وَاِلاَّ خشک سالیوں میں ہلاک ہو جاتے۔جب موسٰی علیہ السّلام کے قصّہ میں مشکلات پیش آویں تو ہمارینبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے معاملات سے وہ مشکل بخوبی حل ہو سکتی ہے۔موسٰی علیہ السّلام کا قصّہ بسط کے ساتھ قُرآن کریم میں صرف اِسی واسطے ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو موسٰی علیہ السّلام کا مثیل قرار دیا گیا ہے چنانچہ آپ کیلئے ضرورت کے موقع پر اﷲ تعالیٰ نے بادل کا سایہ کر دیا جیسے کہ غز وۂ بدرؔ اور احزابؔ میں اور حضرت موسٰی علیہ السّلام کی طرح بارش کی سخت ضرورت پیش آئی تو اُس وقت خدا تعالیٰ نے بارش کے ذریعہ مومنوں کو ہلاکت سے محفوظ رکھا۔اِستسقاء کی نماز ایسے ہی وقتوں کے لئے مسنون ہے۔(نورالدین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۶۷،۱۶۸) انتشاری بجلی سے ہلاکت اور نقصان اگر تم نے نہیں سُنا تو کِسی سائنسدان سے دریافت کرو اور کچھ ہم بھی بتا دیتے ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ جس وقت جنابِ موسٰی علیہ السّلام چند منتخب لوگوں کو طُور کے قریب لے گئے اُس وقت پہاڑ پر آتش فشانی ہو رہی تھی اور بجلیاں اپنی چمک دمک دکھلا رہی تھیں۔جناب موسٰی علیہ السّلام نے حسبِ ارشادِ الہٰی قوم کو روک دیا تھا کہ پہاڑ کے اُوپر کوئی نہ جاوے اور ہم نے ظاہر کا لفظ اِس لئے استعمال کیا ہے کہ بائیبل کو قرآن پر دھرم پال نے ترجیح دی ہے پس اُس نے بائیبل کو پڑھا ہو گا۔کتب خروج میں مفصّل موجود ہے اور قرآن کریم کے اِن کلمات طیّبات پر اعتراض کیا ہے۔اوّلؔ:پکڑ لیا تم کو کڑک نے اور حال یہ ہے کہ تم دیکھتے تھے۔دومؔ:  پھر اُٹھایا تم کو تمہاری موت کے بعد تاکہ تم قدردانی کرو۔صَاعِقَہ، صَعَقَ سے نِکلا ہے۔صَعنقَ کے معنی میں لکھا ہے:۔اَلصَّعْقُ اَنْ یُغْشٰی عَلَیْہِ مِنْ صَوْتٍ شَدِیْدٍ یَسْمَعُہ‘ وَرُبَّمَامَاتَ مِنْہُ (مجمع البحار) صعق یہ ہے کہ بے ہوشی پڑ جاوے کسی پر کسی سخت آواز سے جس کو اس بیہوش ہونے والے شخص نے سُنا اور