حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 148
بھی ہاں میں ہاں ملائی۔دوسرے دِن اُس نے بَینگن کی مذمّت کی تو وہ بھی مذمّت کرنے لگا۔ایک دوست نے کہا کہ یہ کیا؟ کہنے لگامَیں تو امیر کا نوکر ہوں بَینگن کا نوکرنہیں۔پس امراء کو خضوصیّت سے حکم دیتا ہے کہ روزے رکھو، نماز پڑھو۔یہ طریق مشکل ہے مگر خشوع اختیار کرنے والوں کو نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء) اِنَّھَا کی ضمیر مؤنث ہے جو صبر و صلوٰۃ کی طرف پھرتی ہے۔عربوں میں قاعدہ ہے کہ مذکّر و مؤنث مِل جاویں تو مذکّر کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اگر علیحدہ مؤنث و مذکّر کو ضمیر پھرتا ہو تو مؤنث ہو گا۔قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا (التوبۃ:۳۴) ھَا ضمیر فِضَّۃ کے لحاظ سے مؤنث آیا ہے حالانکہ اشارہ دونوں کی طرف ہے۔یہ انگریزوں میں بھی رواج ہے کہ ہاتھ ملانے ، خطاب کرنے میں عورتوں کو مقدّم کرتے ہیں۔عرب کے شعراء کا بھی یہی مَسلک ہے ایک شعر ہے ؎ وَمَا ذِکْر الرَّحْمٰن یَوْمًا وَ لَیْلَۃً مَلَکْنَاکَ فِیْھَا لَمْ تَکُنْ لَیْلَۃُ الْبَدْرِ اَلَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ: یقین کرتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء) اِسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ میں بھی صبر کے معنے روزے کے کئے گئے ہیں۔روزے کے ساتھ دُعا قبول ہوتی ہے۔(بدر ۱۷؍جون ۱۹۰۹ء صفحہ ۲