حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 142 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 142

انعامات کو یاد کرنے سے یہ فائدہ ہے کہ ہمارے احکامات کی بجا آوری میں سُستی نہ کرو۔ہمارے احکامات کی بجا آوری کا یہ نتیجہ ہو گا کہ جو نتائج پہلوں کو عطا ہوئے ہیں وہ تم کو بھی عطا ہو جائیں گے۔بعض اَوقات انسان کو ایک اَور مشکل پیش آ جاتی ہے وہ یہ کہ بعض آدمی غریب ہوتے ہیں ان کو فِکر ہوتا ہے کہ ہم کسی بڑے آدمی کی مخالفت کریں تو ہم کو نقصان پہنچے گا۔ْ: سب سے بڑی نعمت تو رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا وجودِ مبارک تھا۔اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ:میرے وعدوں کے پابند ہو جاؤ۔جو مَیں نے ان پر ثمرات عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے وہ مَیں دے دوں گا۔چونکہ کسی شرعی حکم پر عمل کرنے میں بعض آدمیوں کو مشکلات ہوتی ہیں اور بڑے آدمیوں کا خوف ہوتا ہے کہ شاید وہ تکلیف دیں۔اِسی لئے فرماتا ہے اِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ ڈر صرف میرا ہی رکھو۔انسان حق بات کا اظہار بوجہ مالی ضعف یا ضعفِ جاہ و جلال یا ضعفِ علم و ہمّت کر نہیں سکتا۔مثلاً ایک آدمی غریب ہے اپنا جتھا نہیں رکھتا پس وہ دوسروں کا محتاج ہے۔فرماتا ہے اگر تم اظہارِ حق میں کسی کی پرواہ نہ کرو تم میرے وفادار بنو اور میرا ڈر رکھو مَیں ضرور تمہاری مدد کروں گا۔یہ ضعفاء کے لئے ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍ فروری ۱۹۰۹ء) قرآن سُنانے والوں کو یہودیوں ، عیسائیوں میں قرآن سُنانے کا کم موقع ملتا ہے پس جہاں یہ ذکر ہے وہاں مسلمانوں کو متنبّہ کرنا مقصو ہے۔پس مسلمان کو چاہیئے کہ جن ناپسند کاموں کی وجہ سے یہودی عیسائی عذاب پانے والے ہوئے ان سے بچے اور جن پسندیدہ کاموں کے سبب انعام پائے وہ کرے۔اس قوم کے مورثِ اعلیٰ کا نام نہیں لیا بلکہ لقب بیان کیا ہے اس سے ان کو شرم اور جوش دلانا مقصود تھا۔عربی زبان میں اسرائیل کے معنے ہیں خدا کا بہادر سپاہی۔اِس نام سے یہ غیرت دلائی کہ تم بھی اﷲ کے بہادر نبو۔ہماری سر کار سیّد الابرارصلّی اﷲ عیہ وسلّم سے بڑھ کر اَور کون اﷲ کا پہلوان ہے۔پس اِتنے بڑے انسان کی اُمّت اور اولاد ہو کر ہم نفس و شیطان کے مقابلہ میں بُزدلی دکھائیں تو ہم پر افسوس ہے… وہ نعمت کیا تھی۔دوسری جگہ فرمایا کہ تم میں سے انبیاء و ملوک