حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 141 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 141

جب کبھی ہماری ہدایت پہنچے جو اس کے تابع ہو گا اس پر کسی قِسم کا خوف و حزن طاری نہ ہو گا اور جو حکم کی خلاف ورزی کرے گا اسے نقصان پہنچے گا تم سب دِل میں سوچو کہ تمہارا جی چاہتا ہے کہ تمہیں غم ہو خوف ہو۔غموں اور خوفوں سے بچنے کا ایک ہی علاج ہے وہ یہ کہ ہدایت کی اتباع کرو اگر نہیں کرو گے تو دُکھ اُٹھاؤ گے۔(الفضل ۲۴؍ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵) اِھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا: یہاں سے سب کے سب نکل جاؤ۔یہ حکم اﷲ تعالیٰ کے فضل کا نشان تھا۔حضرت آدمؑ غالباً ہند بلکہ سراندیپ میں چلے آئے جیسے جابر،ابنِ عمر، سیّد ناعلی اور جماعتِ صحابہ اور تابعین اور من بعد ھم سے مروی ہے۔کیونکہ جس مکان پر کسی سے غلطی ہوتی ہے وہ منحوس جگہ اِس قابل نہیں ہوتی کہ محتاط لوگ وہاں رہیں۔علاوہ بریں ایسے مکان سے ہجرت کرنا آئندہ کے واسطے ہشیار اور خبردار بنا دیتا ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۲۶)  سارا قرآن شریف حقیقت میں الحمد کی تفسیر ہے۔اﷲ تعالیٰ نے قرآن شریف میں تین گروہوں کا اور اپنی صفات میں سے چار صفات کا ذکر کیا ہے۔ایک گروہ کا نام منعَم علیہم ہے۔بہت سے لوگ منعَم علیہ ہو کر بھی مغضوب بن جاتے ہیں۔مغضوب علیہ وہ ہوتا ہے جو علم پر عمل نہ کرے اور کِسی سے بے جا عداوت رکھے۔احادیث میں یہود بتائے گئے ہیں ان میں یہی بات ہے کہ بے جا عداوت رکھتے ہیں اور جو اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ہو کر علم نہیں رکھتے اور کسی سے بے جا محبّت رکھتے ہیں وہ ضالین ہیں۔احادیث میں ان کا نام عیسائی آیا ہے۔یہاں یعقوب کا نام چھوڑ دیا ہے۔اسرائیل کو یونانی زبان میں س کی بجائے ش بولتے ہیں۔اشر کے معنے سپاہی ،بہادر۔خدا تعالیٰ نے یعقوب علیہ السّلام کا یہ نام رکھا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا بہادر سپاہی ہے۔ماں باپ نے تو یعقوب نام رکھا تھا اﷲ تعالیٰ نے اسرائیل نام رکھا۔یہاں ہم کو بتایا کہ تم کِن اسلاف کی اَولاد ہو۔