حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 140 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 140

   اِھْبِطُوْا: میرا ایمان ہے کہ یہ سزا نہیں۔آدمؑ نے خدا سے کچھ باتیں سیکھیں جیسے حضرت ابراہیمؑ نے(البقرۃ:۱۲۵) یعنی کچھ حکام دیئے جن کو ابراہیم نے پُورا کیا تو امام بنایا گیا اسی طرح خدا نے حضرت آدمؑ کو درجات عطا فرمائے۔ھُوَا لتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ کے بعدقُلْنَا اھْبِطُوْا فرمانااِس بات کی دلیل ہے کہ یہ بطورسزاہرگزنہیں۔یہ قرآن شریف کے سیاق کے بالکل خلاف ہے۔فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی: ہماراہدایت نامہ جب آئے تو قاعدہ یاد رکھو جو تابع ہو گا اس پر کوئی خوف و حزن نہیں۔ہر زمانے میں ایک تغیّر آتا ہے اس تغیّرمیں ایک قوم خوف و حزن میں ہوتی ہے۔رسولِ کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم جب مبعوث ہو کر پبلک میں آئے تو لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کا وعظ کیا۔اس وقت دو مذہب تھے ایک موحّد دوسرے بُت پرست۔ان میں سے جو متّبع تھے حضرت نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کے وہ کامیاب ہوئے اور سارے عرب کو ساتھ ملا لیا مگر کافر اسی خوف و حزن میں رہے۔عبداﷲ بن اُبَیّ اور ابوجہل کو تھوڑا رنج تھا اور پھر کفّار کو کتنا حُزن ہؤا ہو گا جبکہ دونوں کے بیٹے مسلمان ہو گئے۔غرض جو فرمانبرداری اختیار کرتے ہیں وہ سُکھ پاتے ہیں اور جو مقابلہ کرتے ہیں وہ اصحابُ النّار جَل بھُن کے کباب ہو جاتے ہیں۔ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ مومنون کو بھی خوف و حزن ہوتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ مومنوں کے لئے یہ وعدہ ہے وَلَیُبَدِّ لَنَّھُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا۔غرض یہ خوف و حزن ایک فریق کے لئے کامیابی کا موجب ہوتا ہے تو دوسرے کے لئے ناکامی کا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء) آدمؑ نے اپنے ربّ سے کچھ کلمات سیکھے اور اس پر فضل ہؤا اور اﷲ نے حکم دیا کہ اَب