حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 12 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 12

ہر بَلاکیں قوم راحق دادہ است زیر آن گنجِ کرم بنہادہ است ۱۔اوّلؔ تو اِس لئے کہ مصائب اور شدائد کفارۂ گناہ ہوتے ہیں۔سو یہ بھی اس کا فضل ہے ورنہ قیامت میں خدا جانے ان کی سزا کیا ہے اِس دُنیا ہی میں بُھگت کر نپٹ لیا۔۲۔اِس لئے کہ ہر مصیبت سے بڑھ کر مصیبت ممکن ہے اس کا فضل ہے کہ اعلیٰ اور سخت مصیبت سے بچا لیا۔۳۔مصائب دو قِسم کے ہوتے ہیںدینی اور دُنیوی۔ممکن ہے کہ گناہ کی سزا میں انسان کی اولاد مرتد ہو جاوے یا یہ خود ہی مرتد ہو جاوے۔سو اس کا فضل ہے کہ اس نے دینی مصائب سے بچا لیا اور دینوی مشکلات ہی پر اکتفا کر دیا۔۴۔مصائب شدائد پر صبر کرنے والوں کو اَجر ملتے ہیں۔چنانچہ حدیث شریف میں آیا کہ ہر مصیبت پر کہا پڑھ کر یہ دعا مانگو۔اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلفْنِیْ خَیْرً امِّنْھَا۔اور قرآن شریف میں مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے والوں کے واسطے تین طرح کے اَجر کا وعدہ ہے  ۔ ۔(البقرۃ: ۱۵۶ تا ۱۵۸) یعنی مصائب پر صبر کرنے والوں اور  کہنے والوں کو تین طرح کے انعامات ملتے ہیں۔۵۔ ہوتے ہیں ان پر اﷲ کے۔۶۔رحمت ہوتی ہے ان پر اﷲ کی۔۷۔اور آخر کار ہدایت یافتہ ہو کر ان کا خاتمہ بالخیر ہو جاتا ہے۔اَب غور کرو جن مصائب کے وقت صبر کرنے والے انسان کو ان انعامات کا تصوّر آ جاوے جو اس کو اﷲ کی طرف سے عطا ہونے کا وعدہ ہے تو بھلا پھر وہ مصیبت ، مصیبت رہ سکتی ہے اور غم، غم رہتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔پس کیسا پاک کلمہ ہے کہا اورکیسی پاک تعلیم ہے وہ جو مسلمانوں