حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 137
خَلَقَ اٰدَمَ وَ زَوْجَہ‘ ثُمَّ تَرَکَھُمَا وَقَالّ اعْتَمِرُوْا وَ اَکْثِرُوْا وَ امْلَئُوا الْاَرْضَ وَ تُسَلِّطُوْا عَلٰی اَلْوَانِ الْھُجُوْرِ وَطَیْرِالسَّمَائِ وَالْاَنْعَامِ وَعُشُبِ الْاَرْضِِ وَشَجَرِھَا وَثَمَرِھَا فَاَخْبَرَ اَنَّہ‘ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ قَالَ وَنَصَبَ الْفِرْدَوْسَ فَانْقَسَمَ عَلٰی اَرْبَعَۃِ اَنْھَارٍ۔سَیْحُوْنَ۔جَیْحُوْنَ وَ دَجْلَۃَ وَفُرَاتَ۔وَقَالَ مُنْذِرُبْنُ سَعِیْدٍ۔زٰذَا وَ ھنبُ ابْنُ مُنَبَّہٍ یُحْکِیْ اَنَّ اٰدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ خُلِقَ فِی الْاَرْضِ وَفِیْھَا سَکَنَ وَ فِیْھَا نُصِبَ لَ ہُ الْفِرْدنوْسُ وَ اِنَّہ‘ کَانَ بِعَدْنٍ وَاِنَّ ۱؎ تفسیر فتح البیان و مدارک التنزیل۔مرتّب اَرْبَعَۃَالْاَنْھنارب انْقَسَمَتْ مِنْ ذَالِکَ النَّھْرُالَّذِیْ کَانَ یُسَمّٰی فِرّدنوْسُ اٰدَمَ ون تِلْکَ الْاَنْھَارُ مُضَا فَیِالْاَرْضِ لَا اِخْتِلَافَ بَیْنَ الْمُصَلِّیْنَ فِیْ ذَالِکَ فَاعْتَبِرُوْایَا اُولِی الْاَبْصَارِ۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۲۸تا۱۳۱) اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ وَ کَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ:یعنی اس نے سرکشی کی اور انکار کیا اور وہ کافروں میں سے تھایا ہؤا۔اِس سے صاف ظاہر ہے کہ ہلاکت کو خود اس نے اپنی سرکشی سے خریدا۔خدا نے اسے بجبرہلاک نہیں کیا۔(نور الدین صفحہ ۲۶) پہلا گناہ دین میں خلیفۃ اﷲ کے مقابل یہی تھا اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ۔اِس میں شک نہیں کہ سُنّت اﷲ اسی طرح پر ہے کہ ماموروں پر اعتراض ہوتے ہیں۔اچھے بھی کرتے ہیں اور بُرے بھی۔مگر اچھوں کو رجوع کرنا پڑتا ہے اور بُرے نہیں کرتے۔مگر مبارک وہی ہیں جو اعتراض سے بچتے ہیں کیونکہ نیکوں کو ترجمہ:خدا نے آدمؑ اور اس کی بیوی کو پیدا کر کے یہ کہتے ہوئے چھوڑ دیا کہ جاؤ آبادکاری کرو،کثرتِ اولاد سے زمین کو بھر دو اور مختلف پتھریلی سر زمین آسمان کے پرندوں ،مویشیوں،نباتات،درختوں اور پھلوں پر غلبہ حاصل کرو۔ابنِ قتیبہ نے بتایا کہ یہ اس کُرّۂ اَرض کے بارہ میں ذکر ہے۔پھر کہا کہ اﷲ نے فردوس قائم کیا اور یہ چار نہروں: سیحونؔ،جیحونؔاور دجلہؔوفراتؔمیں تقسیم ہو گیا۔ترجمہ: اور منذرؔ بن سعید نے کہا کہ وہبؔ بن منبّہ بیان کرتے ہیں کہ آدم علیہ السّلام زمین میں پیدا کئے گئے اور اسی میں رہے اور اسی میں ان کے لئے فردوس بنائی گئی جو عدنؔ میں تھی۔اور فردوسِ آدم نامی دریا چار دریاؤں میں تقسیم ہؤا اور یہ چاروں زمین میں واقع ہیں۔اِس بارہ میں اہلِ صلوٰۃ یعنی مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔فَاعْتَبِرُوْا یَا اُولِی الْاَبْصَارِ۔