حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 138 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 138

بھی آخر مامور کے حضور رجوع اور سجدہ کرنا ہی پڑا ہے۔پس اگر یہ مَلک کی طرح بھی ہو پھر بھی اعتراص سے بچے کیونکہ خدا تو سجدہ کرائے بغیر نہیں چھوڑے گا ورنہ لعنت کا طَوق گلے میں پڑے گا۔(الحکم ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء) پہلا نافرمان جس کی تاریخ ہمیں معلوم ہے ابلیس ہے وہ کیوں نافرمان بن گیا اس کی خبر بھی قرآن شریف نے بتلا ئی ہے کہ اس نے ابیٰ اور استکبار کیا یعنی اس میں انکار اور تکبّر تھا جس کی وجہ سے وہ اَسْلِمْ کی تعمیل نہ کر سکا۔اِس وقت بہت لوگ ہیں کہ اس ابیٰ اور استکبار کی وجہ سے اَسْلِمْ کی تعمیل سے محروم ہیں۔کسی کو عقل پر تکبّر ہے کسی کو علم پر۔کسی کو اپنے بزرگوں پر جو کہ ان کے نقصان کا باعث ہو رہا ہے اور جب کبھی خدا کے مامور آتے رہے ہیں یہی اباء اور استکبار اُن کی محرومی کا ذریعہ ہوتے رہے ہیں۔انسان جب ایک دفعہ مُنہ سے نہ کر بیٹھتا ہے تو پھر اُسے دوبارہ ماننا مشکل ہو جاتا ہے اور لوگوں سے شرم کی وجہ سے وہ اپنی ہَٹ پر قائم رہنا پسند کرتا ہے اس کا نتیجہ کُھلم کُھلا انکار اور آخرکار وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ کا مصداق بننا پڑتا ہے۔(الحکم ۲۲؍فروری ۱۹۰۵ء نیز الحکم ۱۷؍مئی ۱۹۰۵ء) َ:اِس سے ظاہر ہے کہ اوّل انکار اور کِبرہی ایک ایسی شئے ہے جو کہ فیضانِ الہٰی کو روک دیتی ہے۔طاعون کے گذشتہ دَورہ میں جو الہام حضرت اقدس کو ہؤا تھا اس میں بھی ایک شرط لگی ہوئی تھی کہ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْا بِالْاِسْتِکْبَارِ(تذکرہ صفحہ ۳۵۰ ایڈیشن چہارم )کِبر تزکیۂ نفس کی ضِد ہے اور دونوں چیزیں ایک جامع نہیں ہو سکتیں۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۴ء)    ان کو شیطان نے پھسلانا چاہا اور پھر ان کو جہاں وہ تھے وہاںسے نکال دیا۔خازن کی تفسیر میں لکھا ہے:۔