حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 127 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 127

فتحیابی ہوتی رہی اور اشقیاء ہمیشہ شقاوت کا نتیجہ پاتے رہے۔اس سعید کا نام آدم علیہ السّلام تھا اس کا مورثِ اعلیٰ ہونا یہود کو توریت سے اور عیسائیوں کو نیو ٹسٹمنٹ سے ظاہر ہے۔عرب کے لوگوں کو اپنی قومی اور ملکی روایت اور یہود اور عیسائیوں کے قُرب سے یہ قصّہ معلوم تھا اور غالب عمرانات کے لوگ آدم علیہ السّلام کے اس دشمن کی بَد حالت سے واقف تھے اور ظاہر ہے کہ تمثیل سے بہتر اور نتائج کے دکھانے سے زیادہ کوئی عمدہ ذریعہ روحانی اور اَخلاقی تعلیم کے لئے نہیں ہو سکتا۔باری تعالیٰ نے ایک خاص مُلک اور ایک خاص زمین میں آدم علیہ السّلام کو پیدا کرنا چاہا اور قبل اس کے کہ اﷲ تعالیٰ آدمؑ کو خلیفہ اور امام اور دینی و دُنیوی بادشاہ بنا دے۔اس ملک کے دیوتا اور سرون اور ملائکہ کو الہاماً آگاہ فرمایا کہ مَیں اس زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں…جب کہا تیرے رَبّ نے ملائکہ کو کہ مَیں اس سر زمین میں ایک خلیفہ بنانا حاہتا ہوں۔الارض کا الف اور لام اگرچہ عموم اور استغراق کے معنے بھی دیتا ہے مگر خصوصیّت کے معنے بھی دیتا ہے۔ہر دو معنے اپنے اپنے موقع پر کئے جاتے ہیں۔یہاں آدم علیہ السّلام کے ایک جگہ سے نکالے جانے اور دوسری جگہ چلا جانے سے صاف واضح ہوتا ہے کہ جہاں آدم علیہ السّلام خلیفہ بنائے گئے تھے وہ ایک خاص مُلک تھا اور جہاں آدمؑ پیچھے روانہ کئے گئے وہ اَور مُلک تھا اِس لئے یہاں الف لام تخصیص کے معنے رکھتا ہے اور لفظ خلیفہ اور الارض کے معنے معلوم کرنے کے واسطے آیۂ ذیل کو پڑھنا چاہیئے:۔ (ص ٓ: ۲۷) اے داؤد! ہم نے تجھ کو اِس زمین میں خلیفہ بنایا سو تُو لوگوں میں حق حق فیصلہ دیا کیجیو۔اِس آیہ میں لفظ خلیفہ اور لفظ الارض سے اچھی طرح واضح ہو سکتا ہے کہ الف و لام خصوصیّت