حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 121
یہ تو تھوڑی سی چیز ہے جو اﷲ بیان کرتا ہے اور جنّات کے نعماء کے مقابل میں ایسی ہے جیسی مچھّرکے سامنے ہاتھی۔تاہم کسی بات کے سمجھانے کے لئے مچھّرسی بلکہ اس سے بھی ادنیٰ مثال دینے سے اﷲ نہیں رُکتا۔جو ایمان دار ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ یہ ان کے رَبّ سے بَرحق ہے اور جو منکر ہیں وہ کہتے ہیں اِس مثال سے اﷲ نے کیا ارادہ کیا۔بہت سے اس سے گمراہ ہوتے اور بہت ہدایت پاتے ہیں۔گمراہ کون ہوتے ہیں وہی جو بَد عہد ہیں۔اپنے عہد کا پاس نہیں رکھتے۔جن سے اﷲ نے قطع تعلق کرنے کے لئے فرمایا ان سے تعلق جوڑتے ہیں اور جن سے تعلق جوڑنے کے لئے کہا ان سے قطع تعلق کرتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں مگر شرارت کا پھَل سِوا ٹوٹا پانے کے کچھ نہیں۔دیکھو تم کچھ نہ تھے خدا نے زندہ کیا پھر مارے گا اور جزا اور سزا کے لئے زندگی دے گا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۱؍فروری ۱۹۰۹ء) دُنیا کی نعمتوں کی مثال تو ان کے مقابل میں مچھّر کی سی ہے یعنی دُنیا کی چیزوں کی بہشت کی نعمتوں کے سامنے ایک پشّہ کے برابر بھی حقیقت نہیں۔ایسی مثالوں سے مومن حق کو پا لیتا ہے اور کافر کہتاہے تمثیلوں سے کیا فائدہ؟ بہت سے لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں مگر گمراہ وہی ہوتے ہیں جو فاسق ہوں۔(الفضل ۲۷؍اگست ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵) : کیسا صاف مطلب ہے کہ فاسق ہی اِس کتابِ کریم کو پڑھ کر گمراہ ہوتے ہیں ورنہ مومنوں کے لئے شفا اور راحت اور نور ہے۔(فصل الخطاب صفحہ۳۲۲) ۔گمراہ کرتا ہے اس سے بہتیرے اور راہ پر لاتا ہے اس سے بہتیرے اور گمراہ کرتا ہے انہیں کو جو بے حکم ہیں۔کیا صاف مطلب ہے کہ فاسق ہماری کتاب کو پڑھ کر گمراہ ہوتے ہیں ورنہ مومنوں کے لئے شفا اور راحت ہے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۳۲۲)