حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 119 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 119

اور تکالیف کے بدلہ جو انہوں نے اپنے پاک نبیصلی اﷲ علیہ وسلم کی اِتّباع میں اُٹھائیں اﷲتعالیٰ کی طرف سے وعدہ تھا کہ انہیں اِسی جنم میں ریگستانِ عرب کے بدلہ نہروں والے ملک عطا کروں گا۔چنانچہ جیسے فرمایا تھا ویسا ہی ہؤا اور آپ کے سچّے اور مخلص اتباع ان بلاد کے مالک ہو گئے جن میں دجلہ ،فرات، جیحوں،سیحون،یردن اور نیل بہتے تھے اور اسی پَیروی کی برکت سے مسلمانوں نے آریہدرت کو بھی لے لیا جس میں گنگا ،جمنا اور سرسوتی بہتے ہیں۔سوچو اور خوب غور کرو۔کیسے قبل از وقت بتایا ہؤا وعدہ پورا ہوا… ان الفاظ کے حقائق کے سمجھنے کے لئے ہمیں کتب تعبیر الرُّؤیا کی طرف رجوع کرنا چاہیئے چنانچہ نہر کے حقائق کی نسبت ان میں ہم یہ پاتے ہیں۔اَلنَّھْرُ یَدُلُّ عَلٰی اِقْلِیْمِۃِ کَسَیْحُوْنَ وَ جَیْحُوَْنَ وَالْفُرَاتاَوَانالنِّیْلَ۔نہر سے مراد یہ ہے کہ ایسی اقلیمیں جن میں نہریں بہتی ہیں جیسے سیحوں ، جیحوںاور فرات اور نیل اسلام کے قبضہ میں آ جائیں گی اور آخر وہ آ گئیں۔وَ النَّھْرُ فِی الْمَنَامِ عَمَلٌ صَالِحٌ أَوْرِزْقٌمُسْتَمِرٌ وَ نَھْرُ اللَّبَنِ دَلِیْلٌ عَلَی الْفِطْرَۃِ وَنَھْرُ الْخَمْرِ دَلِیْلٌ عَلَی السُّکَّرِ مِنْ حُبِّ اﷲِ تَعَالٰی وَ الْبُغْضِ عَنْ مَحَارِمِہٖ وَ نَھْرُالْعَسْلِ دَلِیْلٌ عَلَی الْعِلْمِ وَالْقُرْاٰنِ (تعطیر الانام صفحہ ۳۲۶) اور خواب میں نہر کو دیکھنے سے مراد ہوتا ہے عملِ صالح اور دائمی رزق۔یہ بھی مسلمانوں کوملا۔دُودھ کی نہر دیکھنے سے مراد ہے فطرتِ صحیحہ اور شراب کی نہر سے مراد ہے اﷲ تعالیٰ کی محبّت کے نشہ سے سرشار ہونا اور اس کی حرام کردہ اشیاء سے بُغض رکھنا اور شہد کی نہر سے مراد ہے علم اور قرآن کا حاصل ہونا۔نَھْرُالْکَوْثَرِ فِی الْمَنَامِ نُصْرَۃٌ عَلَی الْاَعْدَائِ بِقَوْلِہٖ تَعَالٰی اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ (تعطیرالانام صفحہ ۳۲۵) نہر کوثر کا رؤیا میں دیکھنا دلیل ہوتا ہے اَعداء پر مظفّر و منصور ہونے پر جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَسے مستنبط ہوتا ہے۔چنانچہ بے چارگی اور بے سامانی کے زمانہ میں جبکہ ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم مکّہ معظمہ میں دشمنوں کے ہاتھوں سے شکارِ لاغر کی طرح دُکھ اُٹھا رہے تھے۔یہ وحی آپ کو عالم الغیب قادر خدا کی طرف سے ہوئی کہ ہم نے تجھ کو الکوثر عطا فرمایا ہے۔دُنیا جانتی ہے کہ وہ مظلوم بیکس انسان