حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 113 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 113

ہم خدا کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔وہ بجلی اگر گِرنے والی تھی تو ان کے روکنے سے رُک نہیں سکتی پھر وہ خدا کا شُکر کریں کہ ان کے کان تو ہیں اگر کان نہ ہوتے تو بجلی کی آواز کِس طرح سُنتے۔ان کی آنکھیں تو ہیں اگر یہ نہ ہوتیں تو پکَ ڈنڈی کِس طرح نظر آتی۔ہر ایک دُکھی اپنے سے بڑھ کر دُکھی کو اپنے ہی شہر میں دیکھ سکتا ہے پس اسے چاہیئے کہ خدا کی دی ہوئی نعمتوںکی قدر کرے اور مشکلات میں گھبرائے نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍فروری ۱۹۰۹ء): منافق مشکلات کے وقت کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں۔اَلصَّوَاعِق۔بجلی کی چمک پہلے ہوتی ہے پھر کڑک۔بجلی کی آواز سُنکر بچاؤ کی تدبیر فضول ہے۔( تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۳۶ ) منافقوں کی مثال اُس شخص کی مثال ہے جس پر مینہ برستا ہے۔گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا رہا ہو جب ذرا بجلی چمکی تو آگے بڑھے ورنہ وہیں کھڑے کھڑے رہ گئے۔جب کوئی فائدہ پہنچا تو اسلام کے معتقد بنے رہے جب کوئی ابتلاء پیش آیا تو جَھٹ انکار کر دیا ایسے لوگ بیوقوف ہیں جیسے بعض نادان بجلی کی کڑک سُنکر پھر کانوں میں اُنگلیاں دیتے حالانکہ روشنی کی رفتار آواز سے تیز ہے اور بجلی اس کڑک سے پہلے اپنا کام کر چکتی ہے۔(الفضل ۱۳؍اگست ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵)    کوئی شخص کسی کے ساتھ نیکی کر کے صرف ہنس کے بولے یا کسی دُکھ کے وقت مدد دے تو آدمی اُس کا ممنون ہو جاتا ہے حالانکہ اگر غور کیا جاوے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب احسان در اصل اﷲ تعالیٰ کا ہے جس نے اس حُسن کو پَیدا کیا پھر اس چیز کو جس سے احسان کیا گیا پھر خود اسے جس پر احسان ہؤا۔پس خدا کو بھُول جانا انسانیّت سے بعید ہے اﷲ تعالیٰ قُرآن کریم میں اِسی لئے اپنے رنگارنگ انعامات و احسانات کا ذکر فرماتا ہے چنانچہ یہاں بھی ارشاد کیا کہ لوگو! تم فرمانبردار بن جاؤ۔کِس کے؟ اپنے پالن ہار کے۔جس نے تمہیں پَیدا کیا۔پھر تمہیں ہی نہیں بلکہ تمہارے بڑوں کو بھی۔یعنی پُشتہا پُشت اس مُحسن کے احسان تم پر چلے آتے ہیں۔