حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 110
مَیں نے غور کیا تو معلوم ہؤا لڑائی آگ سے شروع ہوتی ہے چنانچہ پہلے دل میں ایک آگ اُٹھتی ہے پھر وہی آگ تمام گھر میں پھیلتی ہے پھر دوسرے لوگوں کے ساتھ ملانے کے لئے ان کی دعوتوں کے لئے آگ جلانی پڑتی ہے پھر پہاڑ پر آگ جلا کر اس مہمانی کو وسیع کیا جاتا ہے۔پھر بارُود کی آگ ہے‘ پوٹاس کی آگ ہے ، توپ کی آگ ہے، ڈائنامیٹ کی آگ ہے۔پھر رسول سے جنگ کرنے والوں کا اخیر انجام دوزخ ہے کہ وہ بھی آگ ہے۔اِس قدر تمہید کے بعد مَیں اِس آیت کے معنے کرتا ہوں۔مدینہ میں جب آپ تشریف لائے تو اس وقت جو قوم تھی ان میں عبداﷲ بن ابیّ بن سلول ایک شخص تھا لوگوں نے ارادہ کیا کہ نمبرداری کی پگڑی اسے بندھائیں۔جن دِنوں میں جلسئہ نمبرداری کا ارادہ تھا نبیٔ کریماﷲ صلی اﷲ علیہ وسلّم آ گئے اور اس کی بات بگڑ گئی۔اُسے بہت رنج پیدا ہؤا اور وہ اکثر موقعوں پر رنج نکالتا رہا لیکن کُھل کر مخالفت نہ کر سکتا تھا۔اِس طرز کے آدمی منافق کہلاتے ہیں یہ اندر ہی اندر کُڑھتے رہتے ہیں۔پس اِن کی مثال اُس شخص کی طرح ہے جس نے جلانا چاہا ہے آگ کو۔گویا نبیٔ کریم اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو بُلوا کر سارے جہان سے جنگ کی تھانی۔جب جنگ کی آگ اِرد گِرد بھی بھڑک اُٹھی تو ان لوگوں کا نورِ معرفت جاتا رہا۔جب نار میں سے نور نِکل جائے تو پیچھے اس کی تپش ، دھواں اور تکلیف رہ جاتی ہے اسی طرح اِن لوگوں کا حال ہے جب ان کا وہ نور جو حصہّ ہے ایمان اور معرفت کا اور اﷲ کو راضی کرنے کا، جاتا رہا تو وہ اندھیرے میں پڑ جاتے ہیں۔اندھیرا بھی ایک نہیں بلکہ کئی اندھیرے جیسے کچھ رات کا اندھیرا پھر کچھ معًا روشنی گُم ہو جانے سے جو اندھیرا ہو جاتا ہے وہ۔پھر بادلوں کا اندھیرا۔پس وہ کچھ دیکھتے نہیں اور کچھ سو جھائی نہیں دیتا اور دکھائی کِس طرح دے جب کہ تمیز باقی نہیں۔دِل کمزور ہے اِس لئے حق کے شنوا نہیں رہتے پھر حق کے گویا نہیں رہتے۔حق کے گویا بننے میں بڑے فائدے ہیں۔جب اِنسان دوسروں کو نیکی سمجھاتا ہے تو آخر اپنی حالت پر بھی شرم آتی ہے کہ مَیں جو اَوروں کو نصیحت کرتا ہوں خود میری اپنی حالت کیا ہے اور جب مَیں اپنی اِصلاح نہیں کرتا تو دوسروں کی اصلاح کے لئے کیا کر سکتا ہوں اِس لئے میرا پختہ اعتقاد ہے کہ انسان وعظ سُنے اور وعظ کرے کہ اس سے بھی راہِ حق مِلتی ہے لیکن اُس شخص کی حالت قابِل رحم ہے جو نہ تو آنکھ رکھتا ہے جس سے رستے میں ہلاکت کی چیز کو دیکھ کر بچ سکے اور نہ کان ہیں کہ کسی ہمدرد کی آواز سُن کر بچ جائے جو اُسے بتائے کہ دیکھو اِس رستے نہ آؤ اور نہ زبان ہے کہ خو دچِلّا کر کسی سے پُوچھ لے کہ میاں فلاں مقام پر پہنچا دو اور وہ اسے پہنچا دے۔پس وہ جو نہ حق کا شنوا ہے نہ حق کا گویا