حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 108
ان کے لئے پاک ہدایت ایسی ہے جیسے مَیں نے طِبّ میں دیکھ ہے کہ بعض دفعہ نرم کِھچڑی شدّتِ صفراء کی وجہ سے نہایت تلخ معلوم ہوتی ہے۔یہ لوگ ہدایت کی باتوں کی قدر اور حقیقت سے بوجہ اپنے مرضِ قلبی کے آگا نہیں۔پس ایسے لوگ اگر ایمان کا اظہار بھی کرتے ہیں تو اپنے نفع کے لئے جیسے کوئی آدمی جنگل میں آگ لگائے تو اس سے یہ فائدہ اُٹھا لیتا ہے کہ شیر، چیتے اور ایسے درندے اس کے پاس نہیں پھٹکنے پاتے۔اِسی طرح منافق بظاہر اسلام کا اِقرار کر کے مصائب سے عارضی طور پر بچاؤ کر لیتا ہے لیکن بعد میں بَلائیں، جفائیں اسے گھیر لیتی ہیں۔اس کا نفاق کُھل جاتا ہے پھر کچھ سوچ نہیں پڑتا۔غرض اپنا ظاہر کچھ باطن کچھ بنانے والے ضرور نقصان اُٹھاتے ہیں۔(الفضل ۱۳؍اگست ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵) اِشْتَرٰی۔یہاں پر کوئی حقیقی خریدوفروخت مراد نہیں ہے بلکہ یہاں پر اِس سے یہ مراد ہے کہ انہوں نے ہدایت کو ترک کر دیا ہے اور بجائے اس کے گمراہی کو اختیار کر لیا ہے…حضرت عبداﷲبن عباس اور عبداﷲبن مسعود اور اَور بہت سے صحابہ رضی اﷲعنہم نے یہی معنے کئے ہیں اور … (نہ وہ راہ پانے والے بنے) سے یہ مراد ہے کہ وہ تجارت کی صحیح راہ نہ پا سکے یہاں تک کہ تجارت سے اصل مقصود تو یہ ہوتا ہے کہ اصل مال قائم رہے اور اس سے علاوہ کچھ زائد فائدہ بھی حاصل ہو جائے لیکن منافقوں نے اصل مال (یعنی فطرتِ سلیم اور تحصیلِ کمالات کی فطرتی استعداد) کو ہی ضائع کر دیا۔(رسالہ’’تعلیم الاسلام‘‘ قادیان بابت مارچ ۱۹۰۷ء) حضرت نبی کریم (صلی اﷲ علیہ وسلم )کا قاعدہ تھاکہ جہاں کوئی میلہ ہوتا یا کوئی مجلس تو آپ