حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 107 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 107

یہ بڑی بھاری پیشگوئی ہے اور وہ روزِ روشن کی طرح پوری ہوئی کہ تمام وہ لوگ جو اسلام پر ہنسی اُڑاتے اور اس کی تحقیر کرتے تھے خدا تعالیٰ نے انہیں ضعیف وحقیر کر دیا۔صداقتوں اور واقعاتِ حَقّہ پر اعتراص کرنا سخت ناپاکی اور جہالت نہیں تو اَور کیا ہے۔(نورالدین صفحہ ۳۱،۳۲) اَلسُّفَھَائُ۔سفاہت نام ہے اِضطراب کا۔پتلے کپڑے کو بھی سفیہ کہتے ہیں۔۔ضالین بڑے تاجر ہوں گے مگر دینی ہدایت نہ لیں گے نہ دینی نفع اُٹھائیں گے۔(تشحیذالاذہان جلد ۶ نمبر۹ صفحہ ۴۳۶) اِس زمانہ کا حال دیکھ کر تعجّب آتا ہے کیونکہ اس میں منافق طبع بہت ہیں۔زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں کیونکہ ان کے عقائد سے ان کے اعمال کی مطابقت نہیں۔عیسائیوں نے سوال کیا ہے کہ نجات کِس طرح ہوتی ہے اور مَیں نے جواب دیا ہے کہ نجات فضل سے ہے اور اس خدا کے فضل کو ایمان کھینچتا ہے۔اِس واسطے یہ بھی صحیح ہے کہ نجات ایمان سے ہے۔پھر کہتے ہیں عمل کوئی چیز نہیں حالانکہ کون دُنیا میں ایسا ہے کہ آگ کو آگ مان کر پھر اس میں ہاتھ ڈالے۔پانی کو پیاس بجھانے والا جان کر پھر پیاسلگنے پ اس سے پیاس نہ بجھائے۔ہم کو یہی دیکھتے ہیں کہ جب ایمان ہے پانی پیاس بجھاتا ہے تو پیاس لگنے کے وقت اس پانی سے پیاس ضرور بجھائی جاتی ہے۔پس کیا وجہ ہے کہ یہ ایمان ہو قُرآنِ مجید خدا تعالیٰ کی کتاب ہے اور اعمال کی جزا اور سزا ضروری ہے اور پھر اس پر عمل در آمد نہ ہو۔بہت سے لوگ ہیں جو اپنے اُوپر خدا کے بہت سے فضلوں کا اقرار کرتے ہیں اور اپنے مقابل دوسروں کا ایمان حقیر سمجھتے ہیں مگر عمل میں کچّے ہیں۔مونہہ میں بہت باتیں بناتے ہیں مگر عمل در آمد خاک بھی نہیں۔ایسے لوگوں کو نصیحت کی جائے تو کہتے ہیں ہم تو مانتے ہیں مگر اپنے شیاطین اپنے سرغنوں کے پاس جا کر کہتے ہیں کہ ہم تو ان مسلمانوں کو بناتے ہیں ان کو حقیر سمجھتے ہیں۔اِستہزاء ھذو سے نکلا ہے۔بلکی چیز کو چونکہ آسانی سے ہلایا جا سکتا ہے اِس لئے اِستہزاء تحقیر کو کہتے ہیں۔اﷲان کو ہلاک کرے گا کِسی کو جَلد کِسی کو دیر سے۔اﷲ تو توبہ کے لئے ڈھیل دیتا ہے مگر اکثر لوگ خدا کی حد بندیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔حدبندی سے جوشِ نفس کے وقت یُوں نکل جاتے ہیں جیسے دریا کا پانی جوش میں آ کر کناروں سے باہر نکل جائے۔ایسے لوگ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی لیتے ہیں۔یہ ہدایت جس میں ہدایت چھوڑی اور گمراہی اختیار کی ان کے لئے نافع نہیں