حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 9 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 9

اِس سُورۃ شریف کا نام اُمّ الکتٰب اور سبع مِن المثانی بھی ہے۔یہ سُورۃ شریف ایک مَتن ہے اور قرآن شریف اس کی تفسیر ہے۔کلامِ الہٰی کی تین اقسام ہیں۔اوّل بعض نافہم اور ناخواند ہ لوگ اِس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ سرکار و دربار میں کِس طرح اور کِس مضمون کی درخواست دی جاوے تو اِس لئے کوئی دوسرا شخص جو دربار کے آداب اور قانون سے واقف ہو تو اگر وہ ایسی عرضی لکھ دیوے یا وہ مضمون بتلادیوے جس کی دربار میں شنوائی ہو سکے اور اگرچہ مدّعا اور آرزُو اسی سائل کا اپنا ہو تو ایسے بتلانے والے اور لکھ دینے والے کو مجرم نہیں قرار دیا جاتا۔دُنیاوی گورنمنٹ جو کہ آسمانی گورنمنٹ کا ظِلّ ہوتی ہے ان میںبھی ایسے قواعد ہوتے ہیں۔بعض فارمیں چَھپی ہوئی ہوتی ہیں ان پر صرف سائل کے دستخط کرائے جاتے ہیں۔اس کی مثال قرآن شریف میں یہ سورۃ ہے جو بطور عرضی کے ہم کو عطا ہوئی۔دومؔ جو لوگ حکّام کی پیشی میں بعہدہ سر رشتہ دار وغیرہ ہوتے ہیں وہ کوئی حکم باضابطہ حاکم کی طرف سے اجازت پا کر لکھ دیا کرتے ہیں وہ بھی اصلی حاکم کا حکم ہی سمجھا جاتا ہے۔اِس کی مثال قرآن شریف میں یہ ہے   (الزمہ:۵۴) سومؔ بعض اَوقات خود حاکم اپنے پروانہ جات سے براہِ راست حکم سُنا دیتا ہے اس کی مثال سارا قرآن کریم علی العموم ہے۔کلام کی ان تین قِسموں سے یہ امر بخوبی واضح ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ میں اور قرآن میں  اور دیگر دعاؤں وغیرہ کے الفاظ اِس لحاظ سے محلِّ اعتراض نہیں ہو سکتے کہ جس حالت میں قرآن شریف خدائے پاک کا کلام ہے تو اس میں ایسی عبارتیں کیوں موجود ہیں جو کہ بندوں کی زبانی ہونی چاہیئے تھیں۔گویا اِس طریق سے خدا تعالیٰ نے ایک اَدب اور طریق بارگاہِ عالی میں دعا کرنے کا بتلا دیا ہے۔(البدر ۹؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۸۷) الحمد ایک جامع دعا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی دعا نہیں کر سکتی نہ کِسی مذہب نہ کسی احادیث کی دعائیں۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۱ صفحہ ۴۳۴) عمدہ دعا الحمد ہے اس میں  دونوں ترقّی کے فقرے موجود ہیں۔(بدر ۳۱؍اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحہ۳)