حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 103 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 103

(البقرۃ:۲۵۱) یہ نہایت مختصر سا خلاصہ ہے سورۃ فاتحہ کا جو اِس سورہ بقرہ میں موجود ہے۔اِس کی تفصیل اور تفسیر کے لئے تو بہت وقت چاہیئے مگر مَیں نہایت مختصر طریق پر صرف پہلے ہی رکوع پر کچھ سُناؤں گا چنانچہ ابتداء میں مَولیٰ کریم فرماتا ہے الٓمٓ۔ مَیں اﷲ بہت جاننے والا ہوں اس کی جانب سے یہ ہدایت نامہ ملتا ہے جس پر چل کر انسان روحانی آرام اور سچے عقاید اور جسمانی راحتیں حاصل کر سکتا ہے۔مَیں نے پہلے کہا ہے کہ قرآن شریف کا نام اﷲ تعالیٰ نے شفا رکھا ہے اور اس کے ماننے والوں کا نام متّقی رکھا ہے اور پھر فرمایا ہے(المنٰفقون:۹) یعنی جو لوگ ماننے والے ہوتے ہیں وہ معزّز ہوتے ہیں۔ماننے والے سے مراد یہ ہے جو اس پر عمل در آمد کرتے ہیں۔یہ خیالی اور فرضی بات نہیں ہے تاریخ اور واقعات صحیحہ اِس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ جس قوم نے قرآن کو اپنا دستورالعمل بنایا وہ دُنیا میں معزّز و مقَتدر بنائی گئی۔کون ہے جو اِس بات سے ناواقف ہے کہ عربوں کی قوم تاریخ ِدُنیا میں اپنا کوئی مقام و مرتبہ رکھتی تھی وہ بالکل دُنیا سے الگ تھلگ قوم تھی لیکن جب وہ قرآن کی حکومت کے نیچے آئی وہ کُل دُنیا کی فاتح کہلائی۔علوم کے دروازے ان پر کھولے گئے۔پھر ایسی زبردست شہادت کے ہوتے ہوئے اس صداقت سے انکار کرنا سراسر غلطی ہے۔مَیں دیکھتا ہوں کہ آجکل مسلمانوں کے تنزّل و ادبار کے اسباب پربڑی بحثیں ہوتی ہیں اور وہ لوگ جو قوم کے ریفارمر یا لیڈر کہلاتے ہیں اِس مضمون پر بڑی طبع آزمائیاں کرتے ہیں، لیکچر دیتے ہیں، آرٹیکل لکھتے ہیں مگر مجھے افسوس ہے کہ وہ اس نکتہ سے دُور ہیں ان کے نزدیک مسلمانوں کے ادبار کا باعث یورپ کے علوم کا حاصل نہ کرنا ہے اور ترقی کا ذریعہ انہیں علوم کا حاصل کرنا ہو سکتا ہے حالانکہ قرآن شریف یہ کہتا ہے کہ قرآن پر ایمان لانے والے اور عمل درآمد کرنے والے معزّز ہو سکتے ہیں بلکہ میرا تو یہ ایمان ہے کہ جب انسان کامل طور پر قرآن کی حکومت کے نیچے آجاتا ہے تو وہ حکومت اس کو خود حکمران بنا دیتی ہے اور دوسروں پر حکومت کرنے کی قابلیّت عطا کرتی ہے جیسا کہ(البقرۃ:۶) سے پایا جاتا ہے۔غرض اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں اﷲ جو بہت جاننے والا ہوں یہ ہدایت نامہ دیتا ہوں جس میں کوئی ہلاکت کی راہ نہیں اور نکتہ گیری کا کوئی موقع نہیں ہے ہاں یہ ضروری ہے کہ قرآن سے