انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 80
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۸۰ سورة الاحزاب پس ساری کوششوں کے باوجود ہمارا عمل ، عمل صالح نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا احسان اس کے ساتھ شامل نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کا احسان ہم کسی عمل سے تو نہیں لے سکتے۔اس کا احسان تو محض اس کے فضل اور احسان سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ تم میرے فضل اور میرے احسان کو دعاؤں کے ذریعہ سے ہی جذب کر سکتے ہو۔تو يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ میں بتایا کہ تمہارے اعمال اعمال صالحہ تبھی ہو سکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ محض اپنے احسان سے انہیں اعمال صالحہ بنادے۔پس اس آیت میں ہمیں اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ ہر وقت اپنے رب کے حضور دعاؤں میں مشغول رہا کرو تا اس زندگی میں بھی اور اخروی زندگی میں بھی اس کی خوشنودی اور رضا حاصل کر سکو۔(خطبات ناصر جلد دهم صفحه ۲۸۵ تا ۷ ۲۸) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کہ قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنوبکم میں ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ ایک طرف اعمال کے بدنتائج سے سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے اور کوئی بچا نہیں سکتا اور دوسرے یہ کہ کوئی شخص اپنی ہمت اور طاقت سے اعمال صالحہ بجا نہیں لا سکتا۔اللہ تعالیٰ کا ہی فضل ہے کہ انسان کے اعمال کو اعمال صالحہ کی شکل دیتا ہے اور بد نتائج سے بچنے اور اعمال صالحہ کے بجالانے کے لئے یہاں یہ نصیحت فرمائی ہے کہ اپنا معاملہ اپنے رب سے یا جن سے واسطہ پڑے صاف رکھو کوئی ایچ پیچ نہ ہو۔کوئی چھپی ہوئی چیزیں نہ ہوں۔جب تک اللہ سے اور ان سے جن سے اللہ تعالیٰ تعلق کو قائم کرتا ہے یا تعلق قائم کرنے کی ہدایت فرماتا ہے معاملہ صاف نہ ہو۔آیت ۴ لِيُعَذِّبَ اللهُ الْمُنْفِقِينَ وَالْمُنْفِقْتِ وَ الْمُشْرِكِينَ وَ الْمُشْرِكَتِ وَ يَتُوبَ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ ۖ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رحِيمان (خطبات ناصر جلد دہم صفحہ ۳۵۳ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے متعلق ہی میں خطبات دے رہا ہوں اور آج خدا تعالیٰ کی توفیق سے اس