انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 81
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ΔΙ سورة الاحزاب نے چاہا تو اس مضمون کو ختم کرنا چاہتا ہوں میں نے بتایا تھا کہ یہ آیت جس کی تفسیر میں بیان کر رہا ہوں سورہ احزاب کی ہے اور میں نے جب غور کیا کہ سورۃ احزاب میں اللہ تعالیٰ ہماری رہنمائی کے لئے یہ بتانا چاہتا ہے کیونکہ انسان اپنے طور پر تو کچھ حاصل نہیں کر سکتا جب تک خدا ہمیں علم نہ دے انسان خود نور سے اپنی نیکی کی اور راستبازی کی سیدھی راہوں کو منور نہیں کر سکتا جب تک اللہ تعالیٰ اس کو توفیق نہ دے تو سورۃ احزاب میں بھی اللہ تعالیٰ نے ضروران راہوں کی نشاندہی کی ہوگی جورا ہیں اس کی رحمت کے دروازوں تک لے جاتی ہیں اور جو مجاہدہ خدا کو جب مقبول ہو جائے تو رحمت کے دروازے ایسے شخص یا اشخاص یا گروہ کے لئے کھولے جاتے ہیں آج میں سورۃ احزاب کی ہی ایک آیت کو بنیادی نکتہ بنا کر ایک بنیادی اصل کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تفاصیل تو قرآن کریم میں بہت ہیں قرآن کریم نے اپنی رحمت کے دروازے کھلوانے کے لئے ہمیں کئی سو را ہیں بتائی ہیں ان راہوں پر چلنا بڑا ضروری ہے قرآن کریم میں جو بھی نیکیوں کے طریق بتائے گئے ہیں جو بھی مجاہدات کے راستے ہمیں دکھائے گئے ہیں ان سب پر چلنا ضروری ہے اس لئے قرآن کریم نے اصولی طور پر ہمیں ہدایت دی کہ اگر ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کھولے جائیں گے۔یہ بنیادی اور اصولی چیز ہے باقی تمام اسی ایک بنیادی چیز کی فروعات ہیں اللہ تعالیٰ سورۃ احزاب میں فرماتا ہے کہ اس شریعت کو اس لئے نازل کیا گیا ہے کہ جہاں منافق اور منافقات اور مشرک اور مشرکات کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوء کا حکم جاری ہود کھ اور عذاب اور تکلیف اور پریشانی کا حکم جاری ہو وہاں وَ يَتُوبَ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ یعنی یہ شریعت اور یہ حقیقت جو شریعت کے نظریے کی غرض ہے اس لئے نازل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کیلئے رحمتوں کے سامان پیدا کئے گئے ہیں وَ كَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا اور جوشخص تو بہ کرتا ہے اور جو شخص ایمان پر پختگی کے ساتھ قائم ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ان دوصفات کے جلوے ظاہر ہوتے ہیں ایک تو اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے اور مغفرت کی چادر میں خدائے غفور اسے لپیٹ لیتا ہے دوسرے اس کے مجاہدات قبولیت کا درجہ حاصل کرتے ہیں اور خدائے رحیم اپنی رحمت کی چادریں ایسے شخص اور وجودوں پر نازل کرنا شروع کر دیتا ہے۔( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۲۷۵ تا ۲۷۶)