انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 74 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 74

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۷۴ سورة الاحزاب ہم کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والے ہوں۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحہ ۷۸،۷۷) اس وقت میں صرف ایک بات اس سلسلہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ (جیسا کہ سورۂ احزاب کی ۴۲ تا ۴۴ آیات میں بتلایا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میری رحمت کے حصہ دار بننا چاہتے ہو میرے فضلوں کے وارث بننا چاہتے ہوں تو پھر ایک راستہ میرے فضلوں کے وارث بننے کا یہ ہے کہ اذكروا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا ذکر دل کا بھی ہوتا ہے ذکر زبان سے بھی ہوتا ہے زبان کا ذکر بھی انسان کو جتنا موقع اور جتنی فرصت ملے کرتے رہنا چاہئے۔زبان کے ذکر کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ایک وہ حصہ جس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معین ہدایت دی مثلاً یہ کہ فرض نماز کے بعد ۳۳، ۳۳ دفعہ سُبْحَانَ اللهِ ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ، اللَّهُ اكبر اور پھر ایک بار لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہہ کر سو کے عدد کو پورا کرنا تو اسی شکل میں اسی ہدایت کے مطابق ذکر کرنا چاہیے نماز کے بعد کیونکہ یہی سنت نبوی ہے کوئی شخص اگر فرض نماز سے پہلے یہ ذکر کرتا ہے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام اور ادب کو مد نظر نہیں رکھتا کیونکہ آپ نے نماز سے پہلے نہیں بلکہ نماز کے بعد ذکر کا حکم دیا ہے اگر کوئی شخص ۳۳ دفعہ سے زائد کرتا ہے تو وہ بھی بے ادبی کا مرتکب ہے۔ابھی چند دن ہوئے غانا کے ایک مجدد کی کتاب میں پڑھ رہا تھا انہوں نے ایک واقعہ لکھا ہے اس میں کہ ایک بزرگ تھے انہوں نے سوچا کہ میں گنہ گار آدمی ہوں ۳۳ دفعہ کی بجائے سوسو دفعہ پڑھا کروں گا چند دنوں کے بعد انہیں ایک خواب آئی کہ حشر کا میدان ہے ایک جگہ ایک فرشتے نے میز لگائی ہوئی ہے اور اعلان ہو رہا ہے کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق نماز کے بعد ذکر کیا کرتے تھے وہ ادھر آجائیں اور اپنا انعام لیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ بڑی مخلوق ہے جو وہاں جمع ہوئی اور ان کو انعام ملنے شروع ہوئے میں آگے بڑھتا ہوں اور پھر ہجوم میں پھنس جاتا ہوں آگے جانہیں سکتا اور اس وقت ان کو یہی خیال ہے کہ ہجوم کی وجہ سے میں اس انعام دینے والے فرشتہ کے قریب نہیں ہو سکتا جب میرا وقت آئے گا میں انعام لوں گا پھر آہستہ آہستہ ہجوم کم ہونا شروع ہوا لوگ انعام لیتے اور چلے جاتے جب چند آدمی رہ گئے تو میں بھی ان کے ساتھ آگے بڑھا اس فرشتہ نے