انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 70
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث سورة الاحزاب وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُؤْتِهَا اجْرَهَا مَرَّتَيْنِ میں وجہ بتائی گئی ہے کہ ہم نے ان امہات المؤمنین کو یہ اختیار کیوں دیا !!! اس لئے دیا کہ ہم نے ان کو نمونہ بنایا تھا اور دنیا کو ہم بتانا چاہتے تھے کہ یہ اس مقام کے او پر قائم اور فائز جو کی گئی ہیں۔یہ اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جبر کر کے انہیں اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کی تربیت اس رنگ میں ہوئی ہے کہ واقعہ میں یہ اُمہات المومنین بننے کے قابل ہو گئی ہیں۔اس کے ہم یہ معنی بھی کر سکتے ہیں کہ آؤ دیکھو! ہم اپنے نبی کو کہتے ہیں کہ ان ازواج کو جا کے یہ کہو کہ اگر چاہتی ہو حیات دنیا اور اس کی زینت کو تو سَرَاحًا جَمِيلًا بغیر کسی ناراضگی کے (نہ رسول کی ناراضگی اور نہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ) میں تمہیں تمہارے دنیوی حقوق ادا کر دیتا ہوں ، عام مومنات کی عام مسلمات کی صف میں جا کے کھڑی ہو جاؤ ( یا اگر چاہو تو اسلام کو بھی چھوڑ دو کوئی جبر تو نہیں ہے ) اور اگر چاہو تو اپنی مرضی اور رضا سے اس نہایت ہی اہم ذمہ داری کو اپنے کندھوں پر لو اور ساری اُمت کے لئے اُسوہ حسنہ بننے کے لئے تیار ہو جاؤ اس وعید کے ساتھ کہ اگر تم سے کوئی غفلت اور ستی سرزد ہوئی اور کہیں تم نے غلطی کی اور اس کے نتیجہ میں دوسرے گمراہ ہوئے تو اس گناہ کی سزا دو چند ہو گی۔اور جب ان کے سامنے یہ بات پیش کی گئی تو ان میں سے ہر ایک نے یہی کہا کہ یہ راہ تنگ ہے مگر یہی راہ ہمیں پیاری ہے ہم اسے چھوڑ کے ادھر ادھر ہونا نہیں چاہتیں ہمیں خدا کی رضا اور رسول کا پیار چاہئے ہمیں دنیا کی زندگی اور اس کی زینت نہیں چاہیے۔اگر اللہ تعالیٰ ہمیں اُمت مسلمہ کے لئے اُسوہ بنانا چاہتا ہے تو خدا کے فضل اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ دنیا کو یہ بھی دکھائے گا کہ ہم دنیا کے لئے اور اُمت محمدیہ کے لئے اُسوہ بن جائیں گی۔(خطبات ناصر جلد اول صفحه ۵۹۸ تا ۶۰۳) آیت ۳۷ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُ أمرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَللًا مُّبِينًاه ایک تیسرا طریق اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سورۃ احزاب کی آیت ۳۷ میں اللہ تعالیٰ نے یہ