انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 69
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۶۹ سورة الاحزاب جیسا کہ اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے دوسری آیات میں کئی جگہ کی ہے مثلاً ایک جگہ آتا ہے۔ربنا أتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ اور اس آیت کے شروع میں وجہ بتائی ہے۔رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا (الاحزاب: ۶۸) ہم نے اپنے بڑوں کی ان کے کہنے کے مطابق نقل کی۔انہوں نے کہا ہم تمہارے لئے بطور نمونہ کے ہیں تم ہمارے پیچھے آؤ ہم تمہارے ذمہ دار ہیں۔( کہنے والے تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ جنت میں جانے کے لئے ایک سر ٹیفکیٹ دے دیں گے تمہیں کوئی فرشتہ نہیں روکے گا وہاں تک پہنچ جاؤ گے۔ہم ذمہ داری لیتے ہیں تم یہ کام کرو تمہیں کوئی گناہ نہیں ہوگا اور کروا رہے ہوتے ہیں ان سے گناہ کی بات تو ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن کہیں گے کہ اے خدا! أطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كبراءنَا ہم نے اپنے بڑوں اور سرداروں کی ، لیڈروں کی اور قائدوں کی اتباع میں اور بڑے بڑے مجتہدین اور علماء کہلانے والوں کے کہنے کے مطابق یہ اعمال کئے تھے آج ہمیں پتہ لگ رہا ہے کہ یہ اعمال تو تیری نگاہ میں پسندیدہ نہیں ہیں۔اس لئے ان کو دگنا عذاب دے اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهمُ (العنکبوت : ۱۴) کہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی جن کو اللہ تعالیٰ نمونہ بناتا ہے اور وہ نیک نمونہ پیش نہیں کرتے۔بدی کی راہیں اپنے متعلقین پر کھولتے ہیں اور خدا کی طرف بلانے کی بجائے شیطان کی طرف ان کو بلاتے ہیں اور ان کو صراط مستقیم پر قائم کرنے کی بجائے راہ ضلالت کی طرف لے جاتے ہیں اور ان پکڈنڈیوں کی نشان دہی کرتے ہیں جو شیطان کی طرف جانے والی ہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اپنے بوجھ بھی اُٹھا ئیں گے اور یقیناً وہ ان لوگوں کے بوجھ بھی اُٹھائیں گے جن کو انہوں نے گمراہ کیا جو گمراہ ہوئے ان کو تو بہر حال سزا ملے گی یہ نہیں کہ ان کی سزا معاف ہو جائے گی لیکن ان آئمہ الکفر کا عذاب دگنا کر دیا جائے گا اسی طرح جو نیک نمونہ بنتا ہے اس شخص کی وجہ سے یا ان اشخاص کی وجہ سے یا اس گروہ اور جماعت کی وجہ سے جو نیکیاں قائم ہوتی ہیں اور بہت سے ان کی نقل کر کے خدا تعالیٰ کی قرب کی راہوں پر چلنے لگتے ہیں تو وہ شخص یا اشخاص جو بطور نمونہ کے دنیا میں زندگی گزارتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دہرے وارث ہوتے ہیں اور ان کو ان کا اجر ( مرتین) دو دفعہ ملتا ہے ایک اپنے اعمال صالحہ کے نتیجہ میں ایک اس وجہ سے کہ وہ نمونہ بنے اُسوہ ٹھہرے اور بہتوں کی ہدایت کا موجب بنے۔تو ينِسَاءَ النَّبِي مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ اور وَمَنْ يَقْنُتُ مِنْكُنَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ