انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 68 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 68

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۸ سورة الاحزاب آپس کے جو حقوق ہیں ان کے ساتھ یہ تعلق رکھتا ہے یعنی یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر تم واقعہ میں اُسوہ حسنہ بن گئیں تو اگر تم نے کسی سے پانچ روپے لینے ہوں گے تو تمہیں دس روپے دلوائے جائیں گے اسی طرح اگر بفرض محال تمہارا کوئی گناہ ہو گا جس پر حد لگ سکتی ہو تو یہ مطلب نہیں کہ حد دگنی کر دی جائے گی حدود ایک مخصوص اور محدود دائرہ کے اندر چکر لگاتی ہیں اور جو ثواب ہے وہ بڑے وسیع معنی رکھتا اور اس کا تعلق اس دنیا کی جنت سے بھی ہے اور اُخروی جنت سے بھی ہے اور اس کے مقابل میں جو سزا ہے اس کا تعلق بھی اس دنیا کے جہنم اور اگلے جہان کے جہنم سے ہے۔تو یہاں یہ فرمایا کہ ہم تمہیں اس موقع پر کہ تمہیں امہات المومنین قرار دیا گیا ہے اور یہ اعلان کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام اُمت کے لئے اور ہر زمانہ کے لئے بطور اسوہ حسنہ کے ہیں اور آپ کی پیروی کرنے اور آپ کی اتباع کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔دنیا نے اب صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہی نہیں دیکھنا بلکہ اے ازواج مطہرات ! دنیا کی عورتوں نے تمہاری طرف دیکھنا ہے اور تمہاری اُنہوں نے نقل کرنی ہے اگر تم نے صحیح نمونہ پیش کیا تو نیکی کے ایک تسلسل کو تم جاری کرنے والی ہوگی اگر تم نے برانمونہ پیش کیا تو بدی کے ایک تسلسل کو تم جاری کرنے والی ہوگی۔تو جیسا کہ حدیث میں آیا ہے جو شخص نیکی کی بنیاد ڈالتا ہے اور اس کے نتیجہ میں بہت سے لوگ نیکی کرنے لگ جاتے ہیں تو اس کو اپنی نیکی کی بھی جزاء ملے گی اور جن لوگوں نے اس کے کہنے کے مطابق یا اس کی نقل کرتے ہوئے نیکیاں کی ہیں ان کے ثواب میں بھی وہ حصہ دار ہو گا۔پس یہ ہے مرتین والی جزاء اور جو شخص بدی کی بنیاد ڈالتا ہے اور بدی کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اور بدوں کا سردار بنتا ہے تو اس کو اپنے کئے کی سزا بھی بھگتنی پڑے گی اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے نتیجہ میں بھی اس کو ایک سزا دی جائے گی۔اور یہ ہے ( عَذَاب ضِعْفَيْن ) دگنا عذاب جو ایسے لوگوں کو ملتا ہے۔اگلی دو آیات میں وجہ بیان کی گئی ہے کہ یہ اختیار دیا کیوں گیا تھا؟ فرمایا کہ چونکہ ہم نے ان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا کہ وہ اُسوہ بنیں اور ایک نیک نمونہ قائم کریں اور جس شخص کو اس مقام پر کھڑا کیا جاتا ہے اور جس کے اعمال کے متعلق یہ امید رکھی جاتی ہے کہ بعد میں آنے والے اس کی نقل کریں ان کو اجر بھی دگنا دیا جاتا ہے اور ان کے اوپر ذمہ داری کے نتیجہ میں عذاب بھی دو چند نازل ہوتا ہے