انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 67
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۷ سورة الاحزاب اس تمہید کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیات نازل کی ہیں اور ان کو یہ آیات پڑھ کر سنا دیں اور مشورہ دیا کہ تم والدین سے مشورہ کر کے اور خوب سوچ سمجھ کر مجھے بتاؤ کہ تمہیں حیات دنیا اور اس کی زینت چاہئے یا تمہیں خدا اور اس کا رسول چاہئے جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے امہات المومنین بڑی تربیت یافتہ تھیں انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس معاملہ میں اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں گی؟ مجھے خدا اور اس کا رسول چاہئے دنیا اور اس کی زینت نہیں چاہیے۔اس کے بعد آپ اپنی دوسری بیویوں کے پاس گئے اور ان میں سے ہر ایک نے یہی جواب دیا کہ ہمیں خدا اور اس کا رسول چاہیے دنیا اور اس کی زینت نہیں چاہئے۔مؤرخین اور مفسرین کہتے ہیں کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں زندہ موجود تھیں جن کو یہ اختیار دیا گیا تھا جن میں سے پانچ تو قریش مکہ کے مختلف خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں اور چار مختلف قبائل اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی تھیں اور ساری کی ساری ایسی تھیں کہ جو اس قدر تربیت یافتہ تھیں کہ ایک سیکنڈ کے لئے انہیں سوچنا نہیں پڑا فیصلہ ان کے دماغوں میں گویا پہلے ہی حاضر تھا۔انہوں نے کہا سوچنا کیسا ؟ اور مشورہ لینا کیسا ؟ ہمیں خدا اور اس کا رسول محبوب اور پیارے ہیں ہم اس ذمہ داری کو نباہنے کے لئے تیار ہیں کہ اُمت محمدیہ کے لئے ہم بطور اسوہ حسنہ اپنی زندگیاں گزاریں تو جس چیز کا ان کو ان آیات میں اختیار دیا گیا تھا وہ یہ نہیں تھا کہ چاہو تو طلاق لے لو چاہو تم بیویاں بن کے رہو۔میرے نزدیک اس اختیار کے یہ معنی بھی نہیں تھے کہ چاہو تو تم دنیا لے لو اور چاہو تو خدا کے راستہ میں فقر کو اختیار کرو بلکہ ان کو اختیار اس بات کا دیا گیا تھا کہ چاہو تو ان ذمہ داریوں کو اپنے کندھوں پر قبول کرو جو اُمت مسلمہ کے لئے اور اُمت مسلمہ کی مستورات کے لئے اسوہ حسنہ بننے پر تمہارے کندھوں پر پڑنے والی ہیں اور چاہو تو ایک عام مسلمان عورت کی طرح اپنی زندگیوں کو گزار و اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ یا درکھنا کہ اگر تم نے یہ عہد کرنے کے بعد وعدہ خلافی کی اور نقض عہد کے فاحشہ مبینہ میں تم پڑگئیں اور مبتلا ہو گئیں اور اپنے وعدے کو نہ نباہیا تو پھر دوسری عورتوں کو ان معاصی پر جس قسم کی سزا مل سکتی ہے اس سے دو چند سزا تمہیں بھگتنی پڑے گی اور اگر تم نے اس عہد کو نباہا تو تمہارا اجر بھی دوسری عورتوں سے دگنا ہو گا۔یہ جوا جر ہے یہ حدود کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا ضعفین کا اور مرتین کا تعلق حدود کے ساتھ نہیں اور نہ