انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 63
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۶۳ سورة الاحزاب خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۴۶،۲۴۵) علیہ وعلی آلہ وسلم کی بڑی عظمت تھی اس لئے آپ کو یہ بھی اختیار دیا گیا کہ قرآن کریم کے مخالف، مقابل، مختلف اور متضاد فتوی دے دیں۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ (البقرة: ۱۵۷) لیکن قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے اس کی تردید کی ہے۔اس میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے ایک گروہ کے متعلق یہ فیصلہ صادر کرتا ہے کہ اس کی رحمت سے وہ محروم کر دیئے جائیں گے اور ایک دوسرے گروہ کے متعلق وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس کی رحمت کے دروازے ان کے لئے کھولے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرا فیصلہ رحمت سے محروم کر دینے کا ہو یا رحمت کی بارش برسانے کا ہو ہر دوصورتوں میں میرے فیصلہ کے مقابلہ میں کوئی اور فیصلہ ٹھہر نہیں سکتا اور دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں جو میرے فیصلوں کو رد کر دے اور بدل دے اس لئے اگر محرومی رحمت سے بچنا ہو تو میری طرف رجوع کرنا ہوگا۔قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا مثلاً فرمایا کہ لَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا (النساء : ۵۰) کہ کھجور کی گٹھلی کے اوپر جو ایک لکیر سی ہوتی ہے بالکل معمولی سی وہ اتناظلم بھی نہیں کرتا۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ ظلام نہیں ہے یہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور منفی اور مثبت ہر دو معنی میں مبالغہ کا مفہوم پیدا کرتا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی ظلم کرنے والا نہیں اس تعلیم کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی فرد یا کسی گروہ کے متعلق رحمت سے محرومی کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ بھی رحمت کا ہی ایک جلوہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے بھی اس کا مقصود ان لوگوں کی یا اس فرد کی اصلاح ہوتی ہے اس وجہ سے اسلام نے ہمیں یہ بتایا کہ جہنم دائمی نہیں کیونکہ اصلی جہنم تو خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہے اس میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی دائمی نہیں جب کسی کی اصلاح ہو جائے اس دنیا میں تو بہ اور استغفار کے ذریعہ یا اس دنیا میں ایک وقت معینہ تک سزا بھگتنے کے نتیجہ میں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دروازے اس کے لئے کھولتا ہے اور جہنم کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ نکل جاؤ سارے یہاں سے اب جہنم میں کسی کو رکھنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی وضاحت ہے سورۃ احزاب کی ایک دن میں تلاوت کر رہا تھا جب میں اس آیت پر پہنچا تو میری توجہ کو اس آیت نے اپنی طرف کھینچا اور میں رک گیا میں نے اس آیت کے مضمون پر جب غور کیا تو مجھے خیال پیدا ہوا کہ صرف یہ کہ دینا تو ہمارے لئے کافی نہیں ہے کہ اگر رحمت سے تمہیں میں محروم کروں گا تو