انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 62 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 62

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۶۲ سورة الاحزاب کہ خدا تعالیٰ کے پیار کو ہر دروازے سے حاصل کرنے کے لئے سہولت پیدا ہو جائے اور یہی وہ کامل نمونہ ہے جو صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں پایا جاتا ہے۔پس پہلا پیار ہمارا اپنے رب کریم سے ہے اور پھر اس سے ہے جس نے ہمارے رب کی ہمیں را ہیں دکھا ئیں یعنی محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔آپ نے اپنے رب سے اس قدر پیار کیا کہ کسی اور انسان نے اس قدر پیار کر کے خدا تعالیٰ کے اتنے نور کو حاصل نہیں کیا جتنا آپ نے کیا اور پھر اس نور کو آگے قیامت تک پہنچانے کے سامان بھی پیدا کر دیئے۔غرض ہمارے لئے خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کافی ہیں۔کسی اور کی ہمیں ضرورت نہیں۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۵۰۳ تا ۵۰۵) آپ قیامت تک کے انسانوں کے لئے اسوہ ہیں۔لَقَد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا۔جو اللہ اور اخروی دن سے ملنے کی امید رکھتا ہو اور اللہ تعالیٰ کا بہت ذکر کرتا ہو اللہ تعالیٰ کے رسول میں ایک اعلیٰ نمونہ ہے جس کی پیروی کرنی چاہیے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم رہتی دنیا تک، قیامت تک کے انسان کے لئے اسوہ ہیں۔اسوہ ہیں حسن اعلیٰ نمونہ کامل نمونہ، ایک ایسا نمونہ جس میں ہر فطرت، ہر قابلیت اور استعداد اپنے لئے قابل پیروی راستہ تلاش کر سکتی ہے یعنی جو ہدایت کی راہوں میں ترقی یافتہ ہیں وہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے آزاد نہیں ہو جاتے۔یعنی اسی طرح محتاج ہیں جس طرح ایک مبتدی جو کل مثلاً کلمہ پڑھ کے ایمان لایا۔بڑا عظیم اسوہ ہے۔اس کو سمجھانے کے لئے میں یہ بتادوں کہ معراج میں جو آپ کا مقام بتایا گیا وہ عرشِ ربّ کریم ہے یعنی ساتویں آسمان سے اوپر۔اس واسطے ہر مومن جو روحانی رفعتیں حاصل کر رہا ہے اور بلند سے بلند ہوتا چلا جارہا ہے جب تک وہ عرشِ رب کریم تک نہیں پہنچ جاتا، جو نہیں پہنچ سکتا۔اس واسطے عملاً جو ممکن ہے وہ یہ ہے کہ جب تک وہ ساتویں آسمان تک نہیں پہنچ جاتا اس وقت تک حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی انگلی پکڑ کے اس کی رفعتوں کا سامان کرنے والے ہیں، اس کے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔کیوں اسوہ حسنہ ہیں؟ یہ سوال یہاں بہت اہم ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اسوہ حسنہ کہا گیا تو بعض لوگ اس دنیا میں ایسے پیدا ہو گئے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ حضرت محمد صلی اللہ