انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 61 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 61

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۱ سورة الاحزاب کے وجود میں خدا تعالیٰ کے کامل نور کو مشاہدہ کیا اور بہتوں نے کہا کہ اس کا آنا خدا کا آنا ہوگا۔پس لقد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ اسْوَةٌ حَسَنَةٌ کے مطابق حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی شریعت کے ہر حکم پر احسن رنگ میں عمل پیرا ہو کر اور اپنی فطرت کی ہر قوت اور استعداد کو کامل نشود نما دے کر اور اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ میں کامل طور پر فنا کر کے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایک ایسا بلند اور ارفع مقام پیدا کیا کہ آپ رہتی دنیا تک نوع انسانی کے لئے بطور شفیع کے قرار دیئے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شفاعت کے مضمون کو بڑے حسین پیرائے میں کھول کر بیان کیا ہے۔یہ مضمون تو میں اپنے کسی آئندہ خطبہ میں انشاء اللہ اور اُسی کی توفیق سے بیان کروں گا۔اس وقت میں مختصر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بطور اسوہ کے ہمارے لئے کافی ہیں کسی اور کے اُسوہ کی احباب جماعت احمدیہ کوضرورت نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے ان راہوں کو اختیار کرنا ضروری ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں اور ہر وہ راہ جو خدا تک پہنچاتی ہے اس پر ہمیں آج بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش پاشثبت نظر آتے ہیں۔میں نے لندن میں غیر مسلم دنیا سے جو زیادہ تر عیسائی دنیا ہے، یہی کہا تھا کہ جن راہوں پر چل کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خدا کے پیار کو حاصل کیا ان راہوں پر آپ کے نقش پا آج بھی نظر آتے ہیں۔آپ کے نقش پا پر چلو تم خدا کے پیار کو حاصل کرلو گے۔خدا تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل فطرت عطا کی تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ توفیق بھی عطا کی کہ آپ اپنی اس کامل فطرت کی کامل نشو ونما کریں اور بنی نوع انسان کے لئے ایک کامل اسوہ بن جائیں۔آپ کا یہی کامل اور حسین اُسوہ دراصل آپ کے شفیع ہونے پر دلالت کرتا ہے۔شفیع کے معنے یہ ہیں کہ ایک طرف خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کر کے صفات باری تعالیٰ کے مظہر اتم بن جانا اور دوسری طرف نوع انسانی کی ہمدردی کا اس قدر شدت کے ساتھ وجود میں موجزن ہونا کہ ہر قسم کی بھلائی اور خیر پہنچانے کی تڑپ کے نتیجہ میں ہر قسم کی خیر اور بھلائی پہنچا دینے کی راہ کو کھول دینا، یہ دونوں قو تیں آپ کی زندگی اور ہستی کے دو پہلو ہیں جو آپ کے مقامِ شفاعت پر دلالت کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ سے سارے فیوض کو حاصل کرنے کی طاقت رکھتے ہوئے عملاً حاصل کر بھی لینا اور ان تمام فیوض کو بنی نوع انسان کی طرف پہنچانے کی قابلیت رکھتے ہوئے ایک ایسا نمونہ دنیا کے سامنے رکھ دینا