انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 699 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 699

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۶۹۹ سورة الناس بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الناس آیت ۵ تا ۷ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ) مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ قرآن کریم میں تمام روحانی بیماریوں کا تعلق صدور یا دلوں سے قرار دیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ - الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ۔اس میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ پناہ مانگو اس وسوسہ ڈالنے والے شیطان سے جو ہر قسم کا وسوسہ ڈال کر شرارت سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔یہاں ایک بنیادی اصول کا ذکر فرمایا کہ تمام گناہ شیطانی وسوسہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اور شیطان وسوسہ ڈال کر خود غائب ہو جاتا ہے اور جس کے دل میں وہ وسوسہ ڈالتا ہے اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ وسوسہ ڈالنے والی ہستی شیطان تھی یا کوئی نیک ہستی تھی۔اگر شیطان خناس نہ ہو اور وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹنے والا نہ ہو تو کوئی عقل مند انسان شیطانی وساوس کا شکار ہوکر روحانی بیماری میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔پس شیطان صرف وسواس ہی نہیں بلکہ خناس بھی ہے۔پہلے وہ وسوسہ ڈالتا ہے اور پھر وسوسہ ڈال کر خود پیچھے ہٹ جاتا ہے۔یعنی شیطان، شیطان کی حیثیت سے اس شخص کی نظروں سے غائب ہو جاتا ہے۔پہلا گناہ جو انسان نے کیا وہ اسی وسوسہ کا نتیجہ تھا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَنُ (الاعراف: ۲۱) کہ آدم اور حوا کے دل میں شیطان نے ایک وسوسہ ڈالا جس کے نتیجہ میں وہ ایک گناہ کے مرتکب ہوئے۔اس کے