انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 698
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۹۸ سورة الاخلاص میں منفر د اور یگانہ ہے۔وہ صمد اور غنی ہے اسے کسی کی احتیاج نہیں، ہر دوسرے کو اس کی احتیاج ہے۔تیسرا شریک خاندانی ہوا کرتا ہے۔خاندان کے مختلف افراد ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں۔پس رشتے کے لحاظ سے اور حسب نسب کے لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے۔فرمایا لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ نہ اس کو کسی نے جنا اور نہ اس کا آگے کوئی بیٹا ہے وہ واجب الوجوب ہے وہ ازلی ہے وہ ابدی ہے اور اسے کسی چیز کی احتیاج نہیں۔باپ ہونا بھی احتیاج بتا تا ہے اور بیٹا پیدا کرنا بھی احتیاج ثابت کرتا ہے۔چوتھے یہ کہ وہ اپنے کام کے لحاظ سے واحد لاشریک ہے اس کے فعل میں کوئی اس کی برابری نہیں کر سکتا۔باعتبار فعل بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق اسلام نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔وہ ایک ہے، احد ہے مرتبہ وجوب میں اور اس لحاظ سے کہ کسی کی اسے احتیاج نہیں اور ہر دوسرے کو اس کی احتیاج ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں اور نسبت کے لحاظ سے بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اپنے فعل کے لحاظ سے بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔جب ہم صفات باری کے بارے میں بات کریں گے تو یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ جن صفات میں بظاہر انسان کی بعض صفات یا اس کے افعال کی خدا تعالیٰ کے افعال کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے وہ بھی حقیقی مشابہت نہیں ہے۔ہر دو میں بنیادی فرق ہے لیکن وہ تو بعد کی بات ہے، اس وقت تو میں یہ بتارہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق اسلامی تعلیم ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خدا ایک ہے، کسی جہت اور کسی طور پر کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۰۵،۲۰۴)