انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 697
تفسیر حضرت الليلة اسم الثاني ۶۹۷ سورة الاخلاص ضرورت ہے لیکن اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے بغیر آنکھ کے اور دیکھتا ہے کسی اور ٹور کے۔وہ تو خود ہر دو جہاں کا نور ہے اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ۳۶) پس جہاں بظاہر تھوڑا سا اشتباہ پیدا ہوتا ہے یا مماثلت پیدا ہوتی ہے وہاں بھی اسلام نے ہمیں جو تعلیم دی ہے وہ بڑا عظیم فرق بتاتی ہے خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں اور انسان کی کچھ تھوڑی سی مشابہت میں۔تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللہ کو ہم اس معنی میں بھی لے سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا تھوڑا سا حصہ انسان کو یا دوسرے جانوروں کو ملا ہے لیکن بڑا فرق ہے پس جہاں تک خدا تعالیٰ کی صفات کا تعلق ہے کوئی چیز اور کوئی وجود اس کی صفات میں شریک نہیں ہے۔(خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۵۹۳ تا ۵۹۵) اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔کوئی ذات اس کی ذات جیسی نہیں ہے۔شرکت چار قسم کی ہو سکتی ہے لیکن سورۃ اخلاص میں ان چاروں قسم کی شرکت کی نفی کی گئی ہے یعنی کسی کا کسی کی ذات میں شریک ہونے کا انحصار چار باتوں پر ہے اور سورۃ اخلاص میں ہر بات کی نفی کی گئی ہے۔اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔اللہ ایک ہے۔دو یا تین یا چار یا پچاس یا سو یا ہزار الہ نہیں۔بت پرستوں نے اللہ کے بے شمار شریک بنالئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت خانہ کعبہ میں کفار نے بہت سے بت بٹھا رکھے تھے۔غرض ایک تو یہ بت پرست ہیں جنہوں نے اللہ کو ایک نہیں سمجھا اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے تین خدا بنالئے اور بعض ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ایک کو بھی نہیں مانا لیکن اسلام کہتا ہے اللہ ہے اور وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔عدد کے لحاظ سے وہ ایک ہے اور مرتبہ کے لحاظ سے اللہ کا کوئی ہم پلہ اور ہم مرتبہ نہیں ہے۔واجب الوجوب ہونے میں ایسی چیز یا کوئی ایسا انسان یا جاندار یا فرشتہ یا جن یا جو مرضی کہہ لو غرض کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو واجب الوجوب ہو یعنی جس کا ہونا ضروری ہو۔اللہ کے سوا ہر چیز اپنی ذات کے لحاظ سے ہلاک ہونے والی ہے اور كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان (الرحمن: ۲۷) کے اعلان کے نیچے آتی ہے۔پس مرتبہ وجوب میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور اسی کے اندر آتا ہے محتاج الیہ ہونا اور اس میں بھی خدا تعالیٰ کا جو بے نیاز ہے کوئی شریک نہیں ہے یعنی خدا تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز کسی غیر کی احتیاج رکھتی ہے۔صرف خدا تعالیٰ ایک ایسی ہستی ہے جس کو کسی چیز کی احتیاج نہیں اور ہر چیز خدا تعالیٰ کی احتیاج رکھتی ہے مگر خدا تعالیٰ مرتبہ وجوب میں اکیلا ہے اور اکیلا ہی اس خصوصیت کا حامل ہے اور اس