انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 695
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۶۹۵ سورة الاخلاص بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الاخلاص آیت اتا۵ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ O قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدَّ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُن 611 لهُ كُفُوًا اَحَدُه اللہ احد ہے، اکیلا ہے، اُس جیسا کوئی اور وجود، اس جیسی کوئی اور ہستی نہیں ہے اور وہ خالق بھی ہے۔اللہ کے علاوہ ہر چیز جو اس یو نیورس میں، اس عالمین میں ، ہر دو جہان میں پائی جاتی ہے وہ اللہ کی مخلوق ہے اور جو مخلوق ہے اسے ہم خدا نہیں مانتے نہ مان سکتے ہیں۔ہم صرف اس اکیلے ایک خدا پر ایمان لاتے ہیں جس کی ذات اور صفات کی معرفت ہمیں اسلام نے دی اور قرآن کریم نے بتائی۔اللهُ الصَّمَدُ اللہ اپنی ذات میں غنی ہے اپنے وجود کے لئے اپنی صفات اور ان کے جلووں کے لئے اسے کسی چیز کی احتیاج نہیں۔مادے کی بھی اسے احتیاج نہیں کیونکہ مادہ بھی موجود نہیں تھا اس نے اسے پیدا کر دیا اور جب چاہے اسے مٹا دے۔اس کی صفات کے جلوے کسی شکل میں کسی معنی میں بھی کسی غیر کے محتاج نہیں ہیں اور اللہ کے سوا ہر چیز اللہ کی محتاج ہے اپنے وجود کے لئے بھی کہ اگر وہ پیدا نہ کرتا تو کوئی چیز بھی موجود نہ ہوتی اور اپنے قیام کے لئے بھی کہ جب تک خدا تعالیٰ کی صفات سے اس کا تعلق قائم ہو وہ قائم رہتی ہے ورنہ فنا ہو جاتی ہے۔یہ صفات بھی باقی اور صفات کی طرح از لی ابدی ہیں یعنی ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔”ہمیشہ میں بھی انسان کا دماغ وقت کی طرف جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں بالائے زمان و مکان ہے یعنی نہ مکان کے ساتھ اس کا کوئی