انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 694
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۹۴ سورة النصر ارشاد باری تعالیٰ کے نتیجہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے جو دُعائیں کی تھیں، وہ آڑے آئیں اور اُن دُعاؤں اور اُن دُعاؤں کے بعد جو طفیلی دُعائیں ہم مانگتے ہیں ان کے نتیجہ میں رخنہ دُور ہو گیا، فساد جاتا رہا، اصلاح امر ہو گیا اور پریشانیوں کی بجائے مسرتوں کے دن آگئے۔مگر شاید جگانے کے لئے یا جھنجوڑنے کے لئے ابتلاء بھی آتے ہیں لیکن اُمت محمدیہ کا وہ حصہ جو اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق اور اس کے حکم سے استغفار کرتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، وہ اُسے بار بار رحمت کرنے والا اور مغفرت کرنے والا پاتا ہے۔کب ایسا ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہو اور اُس نے اپنی رحمت سے اُسے نہ نوازا ہو۔ہماری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے ہر زمانہ میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور دُنیا کا ہر ملک اور ہر قوم اس پر شاہد ہے۔آج بھی ہمارے لئے پریشانیوں اور اداسیوں کے دن ہیں مگر یہ وقتی اور عارضی پریشانیاں ہیں۔ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے رب سے قوت حاصل کریں اور اُس سے عاجزانہ دُعائیں کریں کہ ہماری کوتاہیوں اور غفلتوں کے نتیجہ میں اور ہمارے گناہوں کی پاداش میں اس وقت جو پریشانیاں پیدا ہوئی ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں معاف فرمائے اور ہماری اصلاح فرمائے اور ہماری آنکھیں کھولے اور ہمیں پھر صحیح راہ کی طرف لے آئے تا کہ یہ پریشانیاں دُور ہو جائیں اور انشاء اللہ یہ دُور ہو جائیں گی۔خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۵۴۴،۵۴۳)