انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 693
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۶۹۳ سورة النصر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النصر آیت اتام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ) إذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ لى وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سورۃ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کی فتوحات کے متعلق بشارتیں دی گئی ہیں کیونکہ اس سورۃ کا نزول فتح مکہ کے بعد ہوا تھا۔روایتوں میں اختلاف ہے تاہم اس سورۃ کے نزول کے بعد آپ ۷۰ یا ۸۰ دن اس دنیا میں زندہ رہے۔اس کے بعد آپ کا وصال ہوا۔اس سورۃ میں بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ مصیبت کے وقت اور پریشانی کے وقت جو دراصل انسان کے اپنے گناہ اور اپنی کوتاہی اور اپنی بد عملی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے، انسان اللہ تعالیٰ سے قوت حاصل کئے بغیر اس پریشانی اور تکلیف اور دُکھ سے نجات نہیں حاصل کرسکتا۔استغفار کے معنے یہ ہیں ( کیونکہ یہ لفظ غفر سے ہے ) کہ اللہ تعالیٰ سے حفاظت طلب کرنا اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں مانگنا کہ جو فساد اور رخنہ کسی رنگ میں پیدا ہو گیا ہے، وہ اُسے دُور کرے اور اصلاح امر کرے۔خلافت اولی کے زمانے میں اور پھر اس کے بعد صدیوں تک اور سچی بات تو یہ ہے کہ اب تک اسلام پر کمزوری کا زمانہ بھی آیا۔تکلیف کا زمانہ بھی آیا اور پریشانیوں کا زمانہ بھی آیا لیکن اس