انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 687 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 687

تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ آیت ا تا ۳ YAZ سورة الزلزال بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الزلزال بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ إذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَ اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا عَلَمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ اور ہر صدی اس بات پر گواہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ اعلان عظیم جو کیا تھا کہ عَلَمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ کہ انسان کو اس نے وہ علم سکھا یا جسے وہ پہلے نہیں جانتا تھا حقیقتاً صحیح ہے ہر صدی میں نئے علوم نکلے روحانی بھی اور مادی بھی اور انسان ترقی کرتا ہوا اس زمانے تک پہنچ گیا جس کے متعلق یہ کہا گیا تھا۔اِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ اثْقالَهَا (الزلزال :۲، ۳) کہ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ زمین اپنے چھپے ہوئے خزانوں کو باہر نکال کے پھینک رہی ہے بڑی کثرت کے ساتھ نئے سے نئے علوم جو ہیں وہ پیدا ہورہے ہیں۔میرا خیال ہے کہ ہر ماہ ساری دنیا کے نئے جو پوائنٹس (Points) معلم اور محقق جو نکالتا ہے دنیوی میدانوں میں وہ بھی ہزاروں لاکھوں ہیں اور ہر روز ہی کہیں نہ کہیں خدا تعالیٰ روحانی نشان اپنے فیضان نبوی کے نتیجہ میں ظاہر کر رہا ہے اور دنیا علم کے اس میدان میں آگے چل رہی ہے کہ جب یہ میدان آخر میں اپنی منزل کو پہنچتا نظر آئے گا انفرادی حیثیت میں اور اجتماعی حیثیت میں تو اس وقت انسان اس حقیقت کو پالے گا کہ اللہ ہی اللہ ہے۔مولا بس۔خدا تعالیٰ جو واحد و یگانہ ہے وہ اس کا ئنات کی بنیاد بنتا ہے اور اسی پر تمام علوم کی عمارت تعمیر ہوئی ہے اور اسی سرچشمہ سے ہر نور نکلتا ہے۔اللَّهُ نُورُ السَّمَوتِ (خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۴۹۷،۴۹۶) وَالْأَرْضِ ( النور : ٣٦)۔