انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 680
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۸۰ سورة البينة آ جاتے ہیں اور میرا سارا پروگرام درہم برہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کبھی میں اپنی مرضی کرتا ہوں اور کبھی ان کی بات مان لیتا ہوں۔بہر حال مجھے ہر روز اپنے کاموں کے متعلق فیصلہ کرنا پڑتا ہے اور آپ میں سے ہر ایک کو بھی ہر روز کچھ فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔چاہے انسان کو احساس ہو یا نہ ہولیکن انسان کا دماغ فیصلے کرتا ہے۔مثلاً انسان اصولی طور پر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بچوں، اپنے اقرباء اور ان لوگوں سے جو اس پر انحصار رکھتے ہیں اور وہ ان کا راعی ہے کس قسم کا سلوک کرے بعض لوگ اپنی طبیعت کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔اگر ان کی طبیعت میں سختی ہے تو ان کا سلوک سخت ہوتا ہے۔اگر ان کی طبیعت میں ضرورت سے زیادہ نرمی ہے تو ان کا سلوک اپنے لواحقین سے ضرورت سے زیادہ نرم ہوتا ہے اور وہ ان کی تربیت کو نظر انداز کرنے والے بن جاتے ہیں۔اسی طرح ہم اپنے ہمسایوں کے متعلق بعض فیصلے کرتے ہیں مثلاً ایک شخص یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میرے ہمسائے کا مجھے پر بڑا حق ہے۔اس کی ہر ضرورت کو میں اسی طرح پورا کروں گا جس طرح میں اپنے قریبی رشتہ داروں کی ضرورتوں کو پورا کروں گا۔بعض لوگ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہمسائے نے ایک مصیبت ڈال رکھی ہے۔آج یہ چیز لینے آ گیا۔دس دن کے بعد دوسری ضرورت کو بیان کر دیا اور کسی چیز کا مطالبہ کر دیا۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ قیمت کے لحاظ سے شائد مہینہ بھر کے مطالبات چند پیسوں کے ہوں لیکن چونکہ ان کی طبیعتوں کا رحجان اس طرف ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے ہمسایوں کو اس بات کی اجازت نہیں دینی کہ وہ ہمیں ہر روز تنگ کرتے رہیں۔اس لئے وہ ان سے وہ سلوک نہیں کرتے جو وہ ان سے اس صورت میں کرتے کہ ان کے فیصلے مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ کے مطابق ہوں اور اگر ان کا فیصلہ ان احکام کے مطابق ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں تو ان کا سلوک اور ہوتا اور ان کے احساسات اور جذبات یہ ہوتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر کتنا فضل کیا ہے کہ اس نے ہمارے ہمسائے کو ایک دھیلہ یا دو پیسہ کی ضرورت پیدا کر دی اور اس طرح اس نے ہمارے لئے ایک عظیم ثواب کا سامان پیدا کر دیا۔وہ اس رنگ میں بھی سوچ سکتے ہیں اور اپنے فیصلے کر سکتے ہیں۔غرض ایک نقطۂ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زندگیاں فیصلے ہی فیصلے ہیں۔وہ فیصلوں کا مجموعہ ہیں بالکل اسی طرح جس طرح روئی کی گانٹھیں بنادی جاتی ہیں اور روئی کے ریشے ان کے اندر آ جاتے ہیں۔ہماری زندگی کے فیصلوں کی ہر روز ایک بیل (Bale) یعنی گانٹھ بنتی