انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 59 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 59

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۵۹ سورة الاحزاب کے نتیجہ میں قرآن کریم کے وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی محبت کے جلوے ہم دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔پھر حقیقی محبت اور سچا تعلق ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے خدا سے جو زندہ طاقتوں والا خدا ہے پیدا ہو جاتا ہے۔تو لِمَن كَانَ يَرْجُوا الله جو شخص یہ خواہش رکھتا ہو کہ اس کے اندر ایک ایسی تبدیلی ہو جائے کہ اس کے لئے اسی دنیا میں نجات کے آثار نمایاں ہونے شروع ہو جا ئیں اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آ جائے آپ کی محبت میں فنا ہو جائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔جو شخص اپنی نجات چاہتا ہے وہ اس نبی سے (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے غلامی کی نسبت پیدا کرے یعنی اس کے حکم سے باہر نہ جائے اور اس کے دامن اطاعت سے اپنے تئیں وابستہ جانے جیسا کہ غلام جانتا ہے تب وہ نجات پائے گا۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۹۱) اور جب وہ نجات پا جائے گا تو اس کے آثار کیا ظاہر ہوں گے اس زندگی میں ایک پاک زندگی ایسے لوگوں کو عطا کی جائے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے۔ایک اور معنی لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہ کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ حقیقی زندگی اور حقیقی حیات ہے اور وہ الحی ہے وہ زندہ ہے کسی کی احتیاج کے بغیر اور ہر دوسری چیز جو ہے اس کی زندگی اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کے ارادے اور اس کے حکم کی احتیاج رکھتی ہے تو جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس زندہ خدا جو زندہ طاقتوں والا اور زندہ قدرتوں والا خدا ہے اس سے اس کا تعلق قائم ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے بھی روحانی زندگی مل جائے کیونکہ زندہ کا تو زندہ سے تعلق قائم ہوجاتا ہے لیکن زندہ کے ساتھ مردہ کا تعلق ہمارے تصور میں نہیں آتا یہ شخص اگر روحانی زندگی چاہتا ہے تو اس کے لئے ایک ہی در ہے وہاں وہ جا کر اطاعت کے اُسوہ کی پیروی کی بھیک مانگے اور وہاں جا کے اپنی جبین نیاز جھکائے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرے کہ اے خدا تو زندہ طاقتوں والا اور زندہ قدرتوں والا خدا ہے اور اے میرے رب تو نے ہمارے اس محسن کو بھی ایک ابدی زندگی عطا کر کے اس دنیا میں مبعوث کیا ہے جس کے فیض کبھی ختم نہیں ہوتے اور ہمیشہ کے لئے جاری ہیں ہم جانتے ہیں کہ جب تک ہم روحانی طور پر